تحفظ زینب، صرف ایک کلک پر؟

بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے زینب الرٹ بل قومی اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ بل اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے پیش کیا۔ جو کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا۔

بل کے مطابق پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کی پابند ہوگی۔ پولیس اہلکار اطلاع پر فوری ایف آئی آر درج کرنے کا پابند ہوگا۔ بچوں کے خلاف جرائم کی سزائیں، سزائے موت سے لے کر عمر قید بھی ہوسکتی ہے۔ اسکے علاوہ قید کی سزا زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال رکھی گئی ہے۔ عدالت کو کسی بھی بچے کے اغوا یا جنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔

بل کے تحت قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کرکے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ رکھا گیا ہے۔

واضح رہے گذشتہ روز بچوں سے زیادتی سے متعلق زینب الرٹ ایپ کا افتتاح کیا گیا تھا جس کے تحت گمشدہ بچوں کی تلاش کو آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

لاپتہ یا مل جانے والے بچے کی اطلاع دینے کا آسان ترین طریقہ صرف اپنے اینڈرائیڈ یا آئی او ایس موبائل میں زینب الرٹ اپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کریں اور واقعہ کو رجسٹر کریں یا فوری طور پر تازہ ترین اپ ڈیٹ حاصل کریں۔

زینب الرٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے لنک پر کلک کریں یا 1102 پر فوری کال کریں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us