میں سمجھتا ہوں۔۔۔

وہ رات میں کبھی نہیں بھول سکتا جس کے بارے میں ہر شخص کئی خواب سجاتا ہے۔ میں نے بھی کئی خواب سجا رکھے تھے۔ میری اور صالحہ(فرضی نام) کی ارینج میرج ہوئی تھی۔ ہمارے ایک کزن کی شادی میں صالحہ کے خاندان نے بھی شرکت کی تھی جس میں میری امی اور بہنوں کو صالحہ بہت پسند آگئی تھی۔ اس کے بعد میرے گھر والے انکے یہاں رشتہ لے کر گئے اور پھر ہماری بات پکی ہوگئی۔ بات پکی ہونے کے چھ ماہ بعد ہی ہماری شادی کی تاریخ طے کی گئی۔

صالحہ دھیمے مزاج کی لڑکی تھی اور میں بھی کسی حد تک خاموش طبیعت تھا۔ جیسے جیسے ہماری شادی کی تاریخ قریب آنے لگی میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی کہ میں کسی طرح اس سے کچھ تھوڑی بہت بات کرسکوں۔ لیکن ہماری کبھی بات نہ ہوپائی۔

رسمی سلام دعا کے علاوہ کبھی کوئی بات نہ ہوسکی۔ میں ہمیشہ ایک ٹینشن میں رہتا کہ ہماری زندگی کیسے گزرے گی؟ وہ بھی دھیمے مزاج کی ہے اور میں بھی۔۔۔ وہ بھی بہت شرمیلی ہے اور کسی حد تک میں بھی۔ کبھی کبھی تو دل میں خیال آتا کہ میں نے کیوں امی کو ارینج میرج کے لیے ہاں کردی؟ 

شادی کی تیاری میں وہ دن کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا۔ ہمارا نکاح ہوا اور صالحہ رخصت ہوکر ہمارے گھر آگئی۔

گھر آنے کے بعد جس طرح اکثر دلہا اپنے دوستوں کے ساتھ چائے وغیرہ پینے جاتے ہیں میں بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ چائے پینے چلا گیا۔

اس دوران میرے ساتھ موجود لوگوں نے مجھ سے ایسے عنوانات پر بات کرنا شروع کیں جو میرے مزاج کے مطابق نہیں تھیں۔ کوئی مجھے عورت پر حکومت کی ترغیب دینے میں لگا تو کوئی مجھے زبردستی اپنے حقوق پورے کرانے پر آمادہ کرنے کے لیے بضد تھا مگر مجھے اس وقت اس سڑک پر کھڑے ہوکر وہ باتیں سننا اپنی بے عزتی محسوس ہورہی تھی۔ 

چائے وغیرہ پینے کے بعد میں ان لوگوں کے ہمراہ واپس گھر آگیا۔ صالحہ کو کمرے میں لے جاکر بٹھادیا گیا تھا۔ اب مجھے صالحہ کے پاس جانا تھا میرے دل میں ایک عجیب سا ڈر اور خوف تھا جو کہ ایک مرد ہونے کی حیثیت سے مجھے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سماج کی رسموں کے مطابق مجھے اپنی برتری دکھانی تھی کہ میں ایک مرد ہوں اسلیے جو میری مرضی ہوگی وہی ہوگا۔ میں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوکر کچھ دیر ٹہر کر کمرے میں لال جوڑے میں سمٹی بیٹھی صالحہ کو سلام کیا۔ صالحہ نے بہت دھیمے لہجے میں سلام کا جواب دیا اور پھر خاموش ہوگئی۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور صالحہ سے کچھ فاصلے پرآکر بیٹھ گیا۔ 

اس وقت میرے اندر ایک جنگ جاری تھی، میرے ذہن میں سماج کی جانب سے اپنی برتری دکھانے کا بوجھ بھی تھا اور ایک انسان ہونے کی حیثیت سے صالحہ کے احساس کا خیال بھی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں صالحہ سے کیسے اور کیا بات کروں؟ میں کیسے یہ جان سکوں گا کہ صالحہ اس وقت کیا چاہتی ہے؟ اس کے دل میں کون سی سوچیں آرہی ہیں؟ کچھ دیر کے لیے ہم دونوں کے درمیان ایک لمبی خاموشی نے جگہ لے لی۔

میں خاموشی کی اس دیوار کو ڈھانے کے لیے کچھ کہتا اتنے میں صالحہ نے کہا صمد(فرضی نام) آپ کیسے ہیں؟ میں نے جواب میں کہا میں ٹھیک ہوں۔ 

بڑی مشکل سے ہمارے درمیان خاموشی کی دیوار ٹوٹی تھی اس لیے میں نے فورا صالحہ سے سوال کرلیا، صالحہ تم کیسی ہو؟ جس پر اس نے جواب دیا میں بھی ٹھیک ہو۔ میں نے کچھ توقف سے صالحہ سے نکاح کے نوافل ادا کرنے کے لیے کہا، جس کے بعد ہم دونوں نے ایک ساتھ اللہ کی بارگاہ میں شکرانے کے نفل ادا کیے۔ صالحہ نے اپنی جانماز مجھ سے تھوڑی سی پیچھے بچھائی۔ 

میں آگے کھڑا ہوا اور وہ مجھ سے کچھ پیچھے کھڑی تھی اور اب ہم دونوں اللہ کی بارگاہ میں حاضر تھے۔

اس وقت میرے دل میں اللہ کے شکر کے سوا کوئی خیال نہیں تھا۔ میری اس وقت کی کیفیت اگر میں بیان کرنا بھی چاہوں تو نہیں کرسکوں گا۔

وہ لمحہ میری زندگی کا خوبصورت لمحہ تھا، اس وقت میرے دل ودماغ پر صرف ایک خیال تھا کہ اب اللہ کے بعد میں صالحہ کا محافظ ہوں، اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے اس قابل بنایا۔ سرشاری کی کیفیت مجھ پر غالب تھی۔

نفل ادا کرنے کے بعد ہم دونوں نے ایک ساتھ اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کیے اور اپنی آنے والی زندگی کے لیے دعا مانگی۔

نوافل کی ادائیگی اور دعا کے بعد میں نے صالحہ کو منہ دکھائی کا تحفہ دیا اور اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ ابتدا میں صالحہ بلکل بات نہیں کر رہی تھی لیکن پھر آہستہ آہستہ اس نے بھی بات کرنا شروع کی اور پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم دونوں کے درمیان خاموشی مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ شادی کی تیاریوں اور مسلسل تقریبات کی وجہ سے صالحہ بھی تھک گئی تھی اور میں بھی کافی تھکا ہوا تھا،  اس لیے ہم سونے کے لیے لیٹ گئے۔

میرے ذہن میں اس وقت بہت سے خیال آئے لیکن ایک خیال جو سب خیالات پر حاوی تھا وہ یہ کہ صالحہ میری بیوی بننے سے پہلے ایک انسان ہے اس لیے میرے کسی بھی عمل میں اسکی رضامندی بھی ضروری ہے، آج اگر ہم میں اپنائیت موجود نہیں ہے تو کوئی بات نہیں، نکاح کی برکت اور ہمیشہ اس کا خیال رکھنے سے اس کے دل میں بھی میرے لیے محبت اور اپنائیت پیدا ہوجائے گی۔

معاشرے کی جانب سے مرد کے کاندھوں پر بہت سی ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ بوجھ اس پر سماج کی جانب سے رائج کی جانے والی بے کار باتوں کا ہے۔ وہ رو نہیں سکتا کیونکہ وہ مرد ہے۔ معاشرہ پہلے خود اپنی غلط ترغیبات سے مرد کو احساسات اور جذبات سے عاری انسان بناتا ہے اور پھر بعد میں اس کے انسان کی طرح برتاؤ نہ کرنے پر سوال اٹھاتا ہے، 

میرے آس پاس کے لوگوں اور معاشرتی ترغیب کے مطابق میرا اس روز اپنی بیوی کے ساتھ تعلق استوار کرنا میری مردانگی ثابت کرنے کے لیے ضروری تھا۔ لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

کچھ دن بعد ہمارے درمیان تعلق قائم ہوگیا اور اللہ نے ہمیں اولاد کی نعمت سے بھی نواز دیا۔   

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us