بھٹو کا وارث۔۔۔ ڈرپوک؟

بھٹو کا وارث ، قتل ہونے سے ڈرتا ہے۔۔۔؟

بھٹو خاندان کا اکلوتا لڑکا، ذولفقار جونیئر کو کہا جاتا ہے ۔ ذوالفقار جونیئر اور فاطمہ بھٹو مرتضٰی بھٹو کے بچے ہیں ۔ ان کی ماں غنویٰ بھٹو سیاست میں ہے ،لیکن ان کے دونوں بچے سیاست تو کیا، پاکستان سے ہی دور رہتے ۔

فاطمہ بھٹوعام طور پر پڑھنے لکھنے کے کام میں مشغول رہتی ہیں جبکہ ذولفقار جونیئر آرٹ کے مختلف شعبوں میں مشغول رہتے ہیں ۔ حالیہ دنوں فاطمہ بھٹو نے گڑھی خدا بخش میں ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی مزار پر حاضری دی تھی جس کے بعد یہ کہا جارہا تھا کہ فاطمہ بھٹو سیاست میں باقاعدہ آرہی ہیں ۔ لیکن ان کی طرف سے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی گءی ہے ۔

یہ ہی بات ذولفقار جونیئر کے لیے بھی کہی جارہی تھی ۔ گزشتہ روز ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے ذولفقار سے بات کی جس میں ذولفقار علی جونیئر نے بہت مختصر بات کی اور کہا کہ وہ "پاکستان جاکر قتل نہیں ہونا چاہتے "۔ انھوں نے پاکستانی سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر وہ آدمی قتل ہو جاتا ہے جو قتل نہیں کر سکتا ہے ۔

صحافی نے ان سے پوچھا کہ ابھی ان کی ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو منظر پرآئی ہے ۔ اس پر انھوں نے کہا کہ انھیں آرٹ (فن) سے گہری دلچسی ہے ۔ اس لیے وہ اس سے منسلک رہتے ہیں ۔

انھوں نے اپنی سیاست میں آمد مکمل طور پر رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فن کی دنیا میں خوشی محسوس کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us