سندھ حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی صرف نام تک محدود

وعدوں کےکورے، سیلفیوں میں پورے سندھ کے کرپٹ حکمران

جس طرح سندھ حکومت نااہل ہے اس طرح میئر سکھر نااہل ہے۔ سکھر کے بیشتر اسکولوں میں کچرا پڑا ہے مگرصفائی کا کوئی اقدام نہیں ہے۔

سکھر کے علاقے بشیر آباد میں گزشتہ 15 سال سے گرلز پرائمری اسکول بند پڑ اہے۔ اسکول میں کچرے کے ڈھیر لگے پڑے ہیں۔ جبکہ اسکول کا ہر کلاس روم ٹوٹا پڑا ہے۔

بشیر آباد میں رہنے والی معصوم بچیوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ افسوس کی بات ہے سندھ حکومت کی ایمرجنسی صرف نام تک محدود ہے۔ تعلیم کے حوالے سے سندھ حکومت نے کوئی بھی کام نہیں کیا ہے۔ دنیا تعلیم کے حوالے سے سب سے آگے جا رہی ہے اور سندھ میں ابھی تک تعلیم کو کوئی ترجیح نہیں دی گئی ہے۔

یہ نھی پڑھیں:گٹکا غائب مگر پھر بھی دستیاب، کیسے؟

سندھ میں 90 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں اور پیپلز پارٹی کے وزرا فوٹو سیشن میں پورے ہیں۔ جھوٹا دعویٰ کرنے میں پورے لگے پڑے ہیں۔

روز میڈیا پر فوٹو سیشن کے لیے آکر کہتے ہیں سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی لگائی گئی ہے۔ ان کی تعلیمی ایمرجنسی صاف دکھائی دیتی ہے کہ سندھ حکومت نے کس طرح تعلیم کے لئے کام کیا ہے۔

معصوم بچیاں احتجاج کر کہ اعلیٰ حکام سے اپیل کر رہی ہیں خدارا ہمیں اپنا حق دیا جائے۔ ہمیں تعلیم سے محروم نہ کیا جائے۔

مگر افسوس سندھ کے حکمرانوں کو سندھ کی معصوم بچیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ سندھ میں 80فیصد اسکول بند پڑے ہیں اور جو اسکول کھلے پڑے ہیں ان میں تعلیم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا دل کے مریض اب تڑپ تڑپ کے مرجائیں؟

کافی اسکولوں میں فرنیچر نہیں۔ سندھ میں تعلیم کو ختم کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ پیپلز پارٹی کا ہے۔ شاہی خاندانوں کی طرح اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک کے باہر بھیج رہے ہیں۔

مگر سندھ کے معصوم بچوں کو تعلیم سے محروم کر کہ ان کو اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں۔ 15 سال سے گرلز پرائمری اسکول بند پڑا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت گونگی، اندھی اور بہری ہے۔

کافی دہائیوں سے سندھ میں حکومت پیپلز پارٹی کی رہی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کی سب سے بڑی تعلیم دشمن پارٹی ہے۔

تعلیمی ایمرجنسی لگانے والے سندھ کا ہی بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ہمیں افسوس ہو رہا ہے بشیر آباد میں گرلز پرائمری اسکول میں نہ چھت ہے۔ نہ دیوار ہے۔ نہ ٹیچر ہے۔ نہ فرنیچر ہے۔ نہ دروازے ہیں۔ نہ کھڑکیاں ہیں۔ اسکول زبوں حال میں ہے۔

کچھ بااثر لوگوں نے اسکول پر قبضا بھی کر دیا ہے۔ مگر سندھ حکومت ابھی تک سکوں کی نیند کرنے میں پوری ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us