بھارت نے کشمیر کی ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں

 

مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھارت بھارت حکومت کی جانب سےکی جانے والی سختیوں کی وجہ سے مردوں سے زیادہ خواتین میں خوف حراس اور ڈر پایا جا رہا ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیکڑوں ایسی خواتین کی کہانیاں بکھری ہوئی ہیں جن کا دکھ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے اندر ہی کہیں دفن ہو چکا ہے۔ ایک ماں اسپتال میں موجود اپنے نومود بیٹے کی صحت کے بارے میں جاننے سے قاصر ہے تو نئی زندگی کا سفر شروع کرنے والی دُلہن اپنے ارمانوں کے مطابق شادی نہ کر سکی۔ اسی طرح ایک خاتون صحافی پیشے کو ایک طرف رکھ کر بھی خاتون ہونے کی وجہ سے بھارتی سیکیورٹی فورسز سے خطرہ محسوس کرتی ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین ماہ سے عائد پابندیوں کے باعث مقامی افراد متعدد مشکلات کا شکار ہیں۔ لیکن کشمیری خواتین ایک ایسے دکھ سے گزر رہی ہیں جسے ابھی تک بیان ہی نہیں کیا گیا۔ بھارت کے ہزاروں غیر مقامی فوجی کشمیر کی گلیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بعض پابندیوں میں نرمی کے باوجود اب بھی  موباءل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال نہیں ہو سکے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ بدستور بند ہے جس سے عام کشمیریوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہے  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک معمولاتِ زندگی بحال نہیں ہو سکے ہیں۔ لیکن کشمیری خواتین کی مشکلات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی اپنے اکلوتے بیٹے کی گرفتاری پر دکھی ہے تو کوئی اپنے شوہر کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔ وقت پر علاج میسر نہ ہونے کے سبب ایک حاملہ خاتون نے مردہ بچے کو جنم دیا تو وہیں ایک خاتون اپنے نومولود بیٹے سے اس کی زندگی کے ابتدائی 20 دن تک نہ مل سکی۔ ایسی کئی کہانیاں کشمیر میں عام ہیں۔

عتیقہ بیگم نامی خاتون سری نگر کی رہائشی ہیں۔ ان کا اکلوتا اور 22 سالہ بیٹا فیصل اسلم میر گھر کا واحد کفیل تھا۔ عتیقہ کے بقول جب کشمیر میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو فیصل دوائیں لے کر گھر واپس آ رہے تھے لیکن انہیں بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا۔ عتیقہ بیگم نے کہا کہ ان کے بیٹے کو بھارت کے کسی شہر کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے پاس کوئی وسائل نہیں کہ وہ اپنے بیٹے سے مل سکیں۔

سرینگر کی رہائشی صباحت رسول ایک ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے ایک حاملہ خاتون کا واقعہ بتایا کہ ان کے اسپتال میں ایک حاملہ خاتون نے صرف اس لیے داخل ہونے سے انکار کردیا کہ مواصلاتی ذرائع بند ہونے کے باعث وہ اس بات کی اطلاع اپنے گھر والوں تک نہیں پہنچا سکتی تھیں۔ صباحت رسول کے بقول اسی خاتون کو اگلے روز ان کے گھر والے بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لائے جہاں خاتون کی جان تو بچ گئی لیکن ان کا بچہ نہیں بچ سکا۔ صباحت رسول کا کہنا تھا کہ خاتون کی صحت کے پیشِ نظر انہیں اسی روز اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت تھی جس دن وہ آئی تھیں لیکن خاتون کو یہ ڈر تھا کہ اگروہ بغیر بتائے اسپتال میں ایک رات رہ گئیں تو ان کے گھر والے پریشان ہوں گے۔

مسرت زہرا کشمیر کی ایک مقامی صحافی ہیں جو سرینگر کے مضافات میں ہونے والے ایک مظاہرے کے کوریج کر رہی تھیں۔ خاتون صحافی نے بتایا کہ ایک مظاہرے کی کوریج کے دوران ایک پولیس والے نے دھمکی دی کہ وہ انہیں لات مارے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین مردوں کے بغیر اپنے گھروں سے نہیں نکل سکتیں کیوں کہ بھارتی فوجی انہیں ہراساں کرتے ہیں۔ مسرت زہرا کے بقول آپ یہاں چپ نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ گھر سے نکل کر باہر آئیں گے اور بولیں گے تو کوئی نہ کوئی تو آپ کی آواز ضرور سنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے کام کے لیے باہر نکلنا ہی میرا احتجاج ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us