چوٹ کا نشان، جسم پر یاروح پر

بچے کتنے ہونے چاہیں۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں ہماری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہو ، سارہ (نام تبدیل کیا گیا ہے)اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اسد (نام تبدیل کیا گیا ہے) نے سوال کیا۔ اسد میں چاہتی ہوں کہ ہمارے دو بچے ہوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔

میری اور اسد کی لوَ میرج ہوئی تھی۔ شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد سے ہم ہر ٹوپک پر بات کرتے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ اسد اور میرے درمیان بہت اچھی دوستی ہے ہم بلا جھجھک ہر حوالے سے بات کر لیتے ہیں۔ اس لیے میری اور انکی زندگی بہت سکون سے گزرے گی، ہمیں شادی شدہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

مقررہ وقت پر شادی ہوگئی اور میں رخصت ہو کر اسد کے گھر آگئی۔ شادی کے پہلے سال ہی ہمارے یہاں ایان کی پیدائش ہوگئی۔ ہم دونوں بہت خوش تھے۔ ننھے ہاتھ پاؤں دیکھ کر اسد خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، لیکن چند ماہ بعد اسد کے رویے میں تلخی آنے لگی مجھے لگا شاید وہ اپنے کام کی وجہ سے پریشان رہنے لگیں ہیں۔ اور ہماری فیملی بڑھی ہے اس لیے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے شاید وہ چڑ چڑے رہنے لگے ہیں۔ وقت گزرتا رہا دن بدن اسد کے رویے میں تلخی بڑھتی ہی گئی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنا، چھوٹی سی غلطی پر گالیاں دینا اسد کا روز کا معمول بن گیا۔

اسد جب مجھے گالیاں دیتے ایان سہم جاتا، میں کوشش کرتی کہ کسی طرح اسے اس سب سے بچا سکوں کیونکہ مجھے ایان کے اندر ڈر اور خوف سرائیت کرتا محسوس ہونے لگا تھا۔ ایان نہ ہی ٹھیک سے کھانا کھاتا نہ ہی کھیلتا۔ ایان جب تین سال کا ہوا تو میں نے اسکول میں اس کا داخلہ کرایا۔ ایک دن اچانک اسکول سے ایان کی ٹیچر کی کال آئی۔ انہوں نے کہا مجھے ایان کی امی سے بات کرنی ہے کیا میں ان سے بات کرسکتی ہوں؟ میں نے کہا: جی! میں ایان کی امی بات کررہی ہوں۔ جس کے بعد ایان کی ٹیچر نے مجھے اسکول آکر ملنے کے لیے کہا وہ ایان کے حوالے سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتیں تھیں۔ اگلے دن میں ایان کی ٹیچر سے ملنے گئی۔ رسمی سلام دعا کے بعد انہوں نے مجھ سے اچانک بہت ہی دھیمے لہجے میں بات کرنا شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ ایان سارا وقت بہت ڈرا سہما رہتا ہے کسی سے بات نہیں کرتا اور اس میں کوئی امپرومنٹ نہیں ہورہی ہے۔ اس سے بات کرنے کی کوشش کرو تو وہ سہم جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے بابا امی کو نہ ڈانٹیں۔ مسز اسد اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آپ سے ایک سوال کرسکتی ہوں؟ میں نے کہا جی بلکل۔ آپ پوچھ سکتیں ہیں۔ مسز اسد آپ کے شوہر کیا آپکو مارتے ہیں؟ میں نے کچھ دیر کے لیے بلکل خاموش ہوگئی۔ پھر میں نے کہا جی نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا جواب سن کر ایان کی ٹیچر نے کہا مسز اسد ایان شاید کسی خوف کا شکار ہے اسے آپ کی اور آپ کے شوہر کی توجہ کی ضرورت ہے۔

ایان کی ٹیچر کی بات سن کر مجھے اسد کی دی ہوئی ساری گالیاں یاد آگئیں۔ میں انہیں کیسے بتاؤں کہ ایان کس خوف کا شکار ہے۔ ہمارے گھروں میں میاں کا بیوی پر چلانا عام سی بات سمجھی جاتی تھی حالانکہ یہ عام سی بات ہے نہیں۔ باپ کے ہاتھوں پٹتی ہوئی ماں کو دیکھ کر بھی بچوں کو اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی باپ کے اسے گالی گلوچ اور برا بھلا کہنے پر۔ اسد نے مجھ پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا لیکن وہ مجھے ہر روز گالیاں دیتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ذلیل کرتے جس کی وجہ سے ایان پر ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے بہت برا اثر پڑرہا تھا۔ میں نے اس حوالے سے اسد سے بات کرنے کی کوشش کی تو اسد نے کہا میں تمہیں کب کچھ کہتا ہوں؟ انسان کو کبھی کبھی غصہ آجاتا ہے اب میں کیا ہر بات ناپ تول کر بولوں کے اس کا ایان پر کیا اثر پڑے گا؟ سارہ تمہیں لگتا ہے یہ میری وجہ سے اس خوف کا شکار ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کوئی اور وجہ ہو، اور تم فضول کی باتیں چھوڑو جلدی کھانا لگاؤ بھوک لگ رہی ہے مجھے۔

میں دل میں کہہ رہی تھی اسد یہ فضول بات نہیں ہے یہ ہمارے بچے کی زندگی اور مستقبل کے لیے ضروری بات ہے، آپ کیوں نہیں سمجھ رہے؟

ہمارے یہاں بیوی پر مار پیٹ کو ہی تشدد کیوں سمجھا جاتا ہے؟ مجھ جیسی کئی خواتین ایسی ہوں گی جن کے جسم پر مار پیٹ کے تو کوئی نشان نہیں موجود ہوں مگر انکی روح طعنے اور گالیاں سن سن کر چھلنی ہوچکی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us