تیزگام ٹرین حاثہ، ملازمین کی معطلی کا سلسلہ جاری

سندھ کے شہر میرپور خاص میں 31 اکتوبر کے روز تیز گام ٹرین کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پاکستان ریلوے کی جانب سے 13 ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے کے افسران کا کہنا کہ کے ٹرین کے اندر موجود الارم چین سسٹم ٹھیک کام کر رہا تھا۔ اس سے قبل 6 سینیئر ریلوے افسران کو معطل کریا تھا۔

انجن میں لگائی جانے والی ڈیوائس کے مطابق، مسافروں نے چھ بج کر اٹھارہ منٹ پر چین کو کھینچا تھا۔ ڈرائیور کو جب یہ معلوم ہوا تو ڈرائیور نے بریک لگائے۔ مسافروں نے دوبارہ سے رسی کو کھینچا تب تک ریل گاڑی کی رفتار کافی دھیمی ہو چکی تھی۔

انجن میں لگائی جانے والی ڈوائیس میں ریکارڈ ہونے والی معلومات کا اس میں بہت اہم کردار ہے۔ ڈوائیس کی ریکارڈنگ سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ ڈرائیور نے کتنے بریک لگائے، کب لگائے، گاڑی کی کیا رفتار تھی، ریل میں کوئی ٹیکنیکل مسئلہ تو نہیں تھا۔

پاکستان ریلوے کے سی ای او کے مطابق، پاکستان ریلوے کے سینٹرل کنٹرول روم کو آگ لگنے کی اطلاح چھ بج کر  پچس منٹ پر موصول ہوئی۔ انہوں نے ایک بار پھر گواہوں کے بیانات کو مسترد کیا اور کہا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ گیس سیلنڈر سے لگی ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ آگ گیس سیلنڈر سے لگی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہاں تک گیس سیلنڈر گئے کیسے۔۔۔ کیا اس لا پروائی کا کوئی جواب ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us