حقوق مانگنا گناہ بن گیا، سندھ میں طالبِ علموں پر پولیس کا تشدد

سندھ کے شہر نوابشاہ میں روڈ پر احتجاج کرنے والے جامعہ شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے طلبات پر سندھ پولیس کا تشدد، لاٹھی چارج اور ٹیئر گیس شیلنگ۔ احتجاج میں موجود خواتین کا بھی لحاظ نہیں کیا گیا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی کس طرح بے ہوش ہو رہی ہے۔ پولیس نے طالبِ علموں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ ہوسٹل میں بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے سبب سڑکوں پر نکل آئے تھے اور جامعہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

نوجوان طالبِ علموں کا احتجاج چار گھنٹے تک جاری رہا۔ مگر جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے طلبات سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا۔ بلکہ احتجاج کرنے پر پولیس آگئی اور طالبِ علوں پر لاٹھی چارج کیا اور ٹیئر گیس شیلنگ کی۔ پولیس کے تشدد سے کافی طالبِ علم زخمی ہوئے اور ایک کی حالت اب تک تشویشناک ہے۔ پولیس نے کچھ طالب علموں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ کچھ طلبہ نے یہ بتایا کہ دورانِ احتجاج زخمی ہونے والے طالب علموں کو ہسپتال تک منتقل نہیں کیا گیا۔ ہم نے زخمیوں کو خود پبلک اور پرائیوٹ گاڑیوں میں ہسپتال منتقل کیا۔

پولیس اور طالب علموں میں ہونے والے تصادم کے بعد جامعہ کے خلاف احتجاج پھر سے شروع ہوگیا۔ طالب علموں نے 14 میں سے 13 مطالبات پورا کرنے کا تقاضہ کیا۔ طالب علموں نے اپنے لئے بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کیا جن مین پانی، بجلی، کھانا اور فیس میں کچھ حد تک کمی ہے۔ مگر بے حس سندھ گورنمنٹ کے اندر شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں۔ طالبِ علموں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے اور اگر وہ آواز اٹھا رہے ہیں اپنے حقوق کے لئے تو ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

طلبِ علموں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں اتنے سالوں میں ایک مسجد تک قائم نہیں کی گئی۔ یہ شرم کا مقام ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کے لئے۔ طلبِ علموں نے کہا کہ جو سلوک ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے ایسا تو کشمیر میں بھی نہیں ہو رہا ہوگا۔ ہم اس ملک کے معمار ہیں۔ ہم اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔

یونیورسٹی کے طالب علموں نے اب یہ مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ کی وائس چانسیلر طیبہ زریف اور رجسٹرار نجم الدین سوہو کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے ہماری بات نہیں سنی بلکہ مار پیٹ کے لئے پولیس بھیج دی۔ طلبات نے صوبہّ سندھ کے تمام طلب ِ علموں سے یہ گزارش کی ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں اور ان کے حق میں احتجاج کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us