عثمان ڈار: Shame Shame!

تو تو میں میں!

یہ بات وہ بات!

سیاسی حریفوں کا ایک دوسرے کو جملے کسنا، طعنے دینا، اور دھمکیوں تماشوں کے بعد سب کچھ بھول بھلانا تو ماضی کا معمول ہی تھا لیکن عثمان صاحب! اب ایسا نہیں ہوا کرے گا!

آپ اور آپ کے پارٹی قائد اب کچھ بھی کہہ سنا کر پتلی گلی سے نہیں نکل پائیں گے کیونکہ اب ٹویٹر کا زمانہ ہے اور لوگ بھی خاصی ہوشیار ہوچکے ہیں! کاش کہ آپ ایسی باتیں کرتے ہی نہ کہ آج ٹویٹر پر ہی نہیں بلکہ پاکستانی قوم کی اکثریت تھو تھو کر رہی ہے!

تو اگر آپ کو اس بارے میں ابھی تک نہیں پتا تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ابھی حال ہی کی بات ہے کہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحٰمن کا جلسہ اور دھرنہ بھر پور جوش و خروش سے جاری ہے۔ مولانا اپنی جگہ بضد ہیں اور حکومت اپنی جگہ ڈھیٹ۔۔۔ دونوں کا ڈیڈلاک جوں کا توں برقرار ہے۔

ایسے میں ایک نجی ٹی وی شو میں چند روز پہلے حکومتی رکن عثمان ڈار نے میزبان منصور علی خان اور پی پی پی، اور ایک مسلم لیگ ن کی رہنما کے ہوتے ہوئے پشتون قوم اور ملانہ کے دھرنے میں شریک ہونے والوں کے بارے میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا، جو نہ صرف اس وقت اس شو میں موجود ممبران کو ناگوار گزرے بلکہ پوری پشتون قوم اب ان پر شرمندہ اور غصہ ہے۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا، کہ دھرنے میں آنے والے لوگوں کی مثال ان پٹھانوں کی جیسی ہے، جو ہر ماہ آپ کی گلی میں آتے ہیں، اور ۵۰۰ کی شال، ۵۰ روپے میں فروخت کر کے جاتے ہیں۔

ان کے اس جملے میں پشتون قوم کی تضحیک بھی کی گئی ہے اور توہین بھی۔ ان کو ایک ادنیٰ قوم کہا گیا ہے اور ان کو نادان بھی۔ آخر ایسی قوم جس نے کیا جنگیز خان تو کیا ہی انگریز۔۔۔ سب کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے سامنے ڈٹے رہ کر پاکستان اور مسلمانوں کا دفاع کیا۔۔۔ اس قوم کا عثمان ڈار نے پوری قوم کے سامنے مزاق اڑایا!

عثمان ڈار سے اُس وقت ہی بولا گیا کہ وہ اپنے اس جملے پر معافی مانگیں، اور اپنے الفاظ واپس لیں۔۔۔ لیکن شو میں موجود ممبران کی موجودگی میں بھی انہوں نے ایسا نہیں کیا!

آخر خان صاحب، آپ کب تک ایسے لوگوں سے اپنی پارٹی کی ترجمانی کرواتے رہیں گے، جو آپ کے حمایتیوں اور ووٹروں کی اس طرح تضحیک کرتے رہے، تو آپ کی حکومت کیسے آگے چل سکے گی؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us