ادھورا سچ۔۔۔۔؟

ہمیشہ سچ بولو یہ بات کہنے اور سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہے مگر کیا معاشرہ سچ سننے کے لیے تیار ہے؟ اور اگر کوئی سچ میری ذات سے متعلق ہو تو کیا معاشرہ وہ سچ سننے اور جاننے کے بعد مجھے قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہے؟   

ماں باپ اور استاد سمیت معاشرے میں موجود ہر دوسرا تیسرا شخص سچ بولنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے، مگر جب عمل کی بات آتی ہے صورت حال اس کے برعکس ہوتی ہے۔

سنبل (فرضی نام) کے ابا اسکے گریجویشن کے امتحانات ختم ہونے کے بعد سے ہی بس اسکی شادی کی بات پکی کرنے کے در پے تھے۔ بس پیپرز ختم ہوتے ہی انہوں نے کمر کس لی کہ جیسے ہی اللہ نے کوئی مناسب رشتہ بھیجا فورا بسم اللہ کروں گا۔ پھر ایک دن سنبل کے ددھیال کے جاننے والوں میں سے ایک بہت اچھا رشتہ آیا۔ میں نے اور سنبل کے ابا نے تھوڑی بہت چھان پھٹک کرکے اپنا اطمینان کرلیا۔ لڑکا ماسٹرز کرچکا تھا اور ایک کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا۔ اچھی فیملی تھی انہیں ہماری فیملی بھی سمجھ آگئی اور انہوں نے بات پکی کرنے کے لیے آنا تھا۔

میں نے ان سے کہا ارے سنیے! سنبل کے ابا، آپ نے سنبل کی منگنی کے حوالے سے  شہریار (فرضی نام) کی فیملی کو بتایا تھا، آپکی بھائی صاحب سے اس حوالے سے کوئی بات ہوئی؟ جس پر انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا اب جب ان سے بات ہو تو ہلکا سا ذکر کردیجیے گا تا کہ ہر بات ان کے علم میں ہو۔

نئے رشتوں کی بنیادیں جھوٹ پر تو ہر گز کھڑی نہیں ہونی چاہیے۔ سنبل کے ابا نے کہا ہاں!  تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو، میں بھائی صاحب سے ذکر کروں گا تاکہ ان کے ذہن میں جو بھی سوالات ہوں وہ مجھ سے پوچھ لیں۔

میری نند نے کہا بھابھی کیا ضرورت ہے سب بتانے کی، جو بات ختم ہوچکی تو بس ختم ہوچکی، فضول میں آپ بھائی کو ان مسئلوں میں ڈال رہی ہیں اور ویسے بھی اب تو بس وہ لوگ سنبل کو انگوٹی پہنانے ہی آرہے ہیں، آپ اس بات کا ذکر نہ کریں انکے سامنے۔ منگنی ہی ختم ہوئی تھی اور وہ بھی بھائی نے ختم کی تھی کیونکہ وہ لڑکا برے فعل میں تھا ایسے میں ہم اپنی بچی کو کیا کھائی میں دھکیل دیتے۔ ماں باپ ہونے کی حیثیت سے آپ لوگوں نے جو بہتر سمجھا وہ کیا۔

شہریار کی فیملی سنبل کو انگوٹھی پہنانے مقررہ وقت پر ہمارے گھر آئی۔ مجھے دل میں عجیب وسوسے آنے لگے کہ کہیں کچھ غلط نہ ہوجائے۔ میں نے بھابھی سے باتیں کرنے کے دوران درمیان میں اس بات کا ذکر بھی کر ڈالا۔ جس پر شہریار کی امی کے چہرے کے تاثرات کچھ تبدیل ہوئے، جس کے بعد انہوں نے مجھ سے پے در پے سوالات کرنا شروع کردیے۔ منگنی کیوں ختم کی؟ کیا وجہ تھی؟ کتنا عرصہ رہی؟ کون لوگ تھے وہ اپکے جاننے والوں میں سے تھے یا باہر کے؟ کمرے کا ماحول اب بالکل تبدیل ہوگیا تھا، سنبل کے ابا نے کسی حد تک بات سنبھالنے کی کوشش کی مگر شہریار کی امی کچھ زیادہ ہی تجسس کا شکار ہوگئیں تھیں۔ خیر اس کے کچھ دیر بعد ہی شہریار کی امی کھڑی ہوگئیں اور کہا بھابھی ہم تھوڑا سوچ کر بتائیں گے۔ اس کے بعد وہ لوگ چلے گئے اور پھر کوئی رابطہ نہ کیا۔

جس کے بعد مجھے سب سے باتیں سننی پڑیں کہ آپکو کیا ضرورت تھی سچ بتانے کی۔ اچھی فیملی تھی شادی ہوجاتی بعد میں پتہ چلتا تو کچھ بھی نہیں ہوتا، ایسی تو کئی باتیں ہوتیں ہیں جو نہیں بتائی جاتیں۔ خوامخواہ آپ نے ٹوٹی ہوئی منگنی کی بات چھیڑ دی۔

ہمارا معاشرہ مکمل جھوٹ کے ساتھ لوگوں کو باآسانی قبول کرتا ہے مگر مکمل سچ کے ساتھ قبول کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us