ٹائیفائیڈ ویکسین، زندگی یا موت ؟

ہمارے ملک کے کئی بڑے مسئلوں میں سے ایک بڑا مسئلہ موزی بیماریوں کا بھی ہے جس کی وجہ کیا یا کونسے عناصر ہن رہے ہیں ،ذمہ داریاں قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں نہ حکومت، نہ عوام۔

پاکستان میں پچھلے دنوں میں ٹائیفائیڈ میں بے طرح اضافہ ہوا ہے۔ جس کی روک تھام کیلئے حکومت نے انسداد ٹائیفائیڈ مہم کا آغاز  کیا۔

آج سے شروع کی جانے والی انسداد ٹائیفائیڈ مہم میں ۱۰ ملین بچوں کو ٹیکے لگانے کا ہدف قائم کیا گیا۔ وزیر صحت سندھ عزرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ اس دو ہفتے کی کیمپین میں ۱۰ ملین سے زائد بچوں کو ٹائیفائیڈ کی ویکسین لگائی جائے گی جس میں ۹ مہینے سے لے کر ۱۵ سال تک کے بچے شامل ہونگے۔

لیکن وہیں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماں باپ کو اس بات پر اعتراضات ہیں کہ ان کے بچے ان سب سے دور رہیں کیونکہ تقریبا ہر سال ایسی مہم کا آٖغاز ہوتا ہے اور بچوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی اہم ذمہ داری جاتی ہے حکمرانوں کے چیک اینڈ بیلنس کے ناقص و ناکارہ نظام کو کہ جدھر  کوئی سننے والا نہیں ہے۔

آج ایک ایسا ہی واقعہ کراچی کے علاقے اورنگی کے وائٹ ہاؤس اسکول میں پیش آیا جہاں مہم کے دوران ویکسین کے اندراج کے بعدجب کچھ بچوں کی حالت غیر ہو گئی تو ان کے ماں باپ نے بھی ہنگامہ کر دیا۔ جس کے بعد بچوں کو طبی امداد کے لیےقریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ایل آر نیوز کے رپورٹر نے خبر ملنے پر واؕئٹ ہاؤس اسکول کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کے ان نئی ویکسینز کی وجہ سے 6 بچے دم توڑ چکے اور کئی بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ بچوں کا کہنا تھا کہ جو عملہ انہیں ٹائیفائیڈ کی ویکسین لگا رہا تھا وہ بالکل بھی تجربہ کار نہیں تھا اور جس کی وجہ سے کئی بچوں کے ہاتھوں سے خون رسنا شروع ہوگیا تھا۔

ناقص عملہ اور ناقص ترین حکومت کی لا پروائی کی وجہ سے سزا بھگت رہی بیں یہ ننھی جانیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us