بابری مسجد کا فیصلہ اور ٹویٹر صارفین کا غصہ!

دو دشمن ملک، لیکن کیسا عجیب اتفاق؟

دونوں نے تاریخی مذہبی اہمیت کے کام آج، ایک ہی دن کیے، لیکن دونوں پر عوام کا ردعمل کچھ عجیب سا۔

ایک کی باری میں عوام دونوں طرف سے دل سے خوش لیکن دوسر کی باری میں غصہ تو اپنی جگہ، لیکن جو لوگ مطمٗن نظر آہ رہے ہیں، دراصل وہ بھی اپنے دلوں میں کئی وہم و گمان رکھتے ہیں۔

پاکستان میں آج بابا گرونانک کے جنم دن کے موقعے پر کرتار پور کوریڈور کا افتتاح کی گیا ہے، جہاں بھارت اور دنیا بھر سے سکھ یاتری اور عقیدت مند، اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے آئیں گے۔ ان کو خصوصی مراعات اور سیکورٹی دی جائے گی تاکہ وہ انجان ملک کو بھی اپنا ہی سمجھ کر یہاں اپنی مذہبی رسومات اور عبادتیں آسانی سے ادا کر سکیں۔

لیکن دوسری جانب بھارت، جو پاکستان کے ساتھ دشمنی میں اتنا آگے نکل چکا ہے، اُس نے اس خاص دن کی اہمیت کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے، پاکستان کو انتشار دلانے اور یہاں موجود ملمانوں کے دلی جزبات مجروع کرنے کے لیے بابری مسجد کا تاریخی فیصلہ آج ہی سنا ڈالا، جس کی حتمی سماعت کو کچھ دن بعد آنا تھا۔ لیکن یہ وقت بھی تو اہم تھا، آج پاکستان سے بدلہ لینا کا اہم موقعہ تھا۔

عوامی اور سماجی حلقوں کے کارکنوں نے ٹویٹر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس فیصلے کو تو قبول کر لیں، لیکن یہ بتایا جائے، کے دسمبر ۱۹۹۲ کو ہونے والے حملوں میں جن مسلمانوں کی جانیں ضائع کی گئیں تھیں، ان کو انصاف کب ملے گا؟۔۔۔

پاکستان کی عوام نے بھی اس پر برار غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اقبال ڈے اور کرتار پور کوریڈور کھول کر پاکستان نے عظمت کا عملی مظاہرہ کیا ہے لیکن بھارت نے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

ایک بھارتی صحافی نے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس فیصلے کے آنے سے قبل ہی ان کو اس پر کسی قسم کی سیاسی گفتگو کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ اور اب ان کو اپنی ریاست کی پولیس کی جانب سے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔

لیکن بھارت میں اس حوالے سے مذہبی انتہا پسندوں نے خوب جشن اور خوشیاں منائیں۔ فیصلہ آنے کے بعد مٹھائیاں بانٹی گئیں اور رقص کیا گیا۔ وہ جانتے تھے کہ اس فیصلے کے آنے بعد متنازع ردعمل سامنے آئے گا اسی لیے پورے ملک بھی سیکورٹی بھی ہائی الرٹ پر کی گئی۔

پر ایسا تو ہوتا ہی آتا رہا کہ بھارت اپنے آپ کو کتنا ہی سیکولر ملک کیوں نہ تسلیم کرلے، لیکن ایک مذہبی انتہا پسند وزیر اعظم کے آنے کے بعد اس کے اندر کی مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچ کر دنیا کے سامنے آہ گئی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us