ٹرانسپورٹرز اور موٹروے پولیس کے درمیان نئی جنگ کا آغاز

موٹر وے پولیس جو ہر سگنل اور ہر چوک پر ٹرانسپوٹرز سے بھتے وصول کرتی نظر آتی ہے اب انہیں کے خلاف ایکشن لیں گے۔ 

سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کے چیئرمین کیپٹن (ر) ناصر مرزا، حنیف خان مروت اور دیگر عہدیداروں نے کہا ہے کہ وزارت مواصلات نے ایکسل لوڈ رجیم آرڈیننس 2000 کے مختلف شیڈولز میں درج جرمانوں کو یکدم بڑھا کر ٹرانسپورٹ برادری کو بند گلی میں کھڑا کردیا ہے۔

وزارت مواصلات کے من مانے اضافے کسی صورت قبول نہیں۔ پورے پاکستان کے ٹرانسپورٹرز ان جرمانوں کو رد کرتے ہوئے فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

چیئرمین آصف محمود نے کہا ہے کہ یہ جرمانے غیر حقیقت پسندانہ ہیں جو صوبائی حکومت سے منظور شدہ موٹروے ایکٹ 1965 سے متصادم ہیں۔ کئی ماہ سے وزارت مواصلات، این ایچ اے اور موٹروے پولیس ٹرانسپوٹ برادری کے خلاف سازشیں کررہی ہے۔ جن کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سپریم کونسل نے وزارت مواصلات کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لیے ملک کے نامور وکلا کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔ آئندہ چند یوم کے اندر عدالت میں پٹیشن دائر کردی جائے گی۔ انہوں نے تمام ٹرانسپورٹرز، گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیورز کو یقین دلایا کہ جب تک جرمانے ختم نہیں کرواتے سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us