رشوت کی بھوک اور جعلی چالان

پنجاب میں عوام کو لوٹنے کا ایک نیا طریقہ سامنے آگیا۔ ٹریفک پولیس اہکار  چلان اور ڈاکیومینٹس نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو لوٹتے ہی ہیں، مگر انہوں نے نئے پاکستان میں رشوت خوری کا ایک نیا طریقہ نکال لیا ہے۔ اب وہاں پر ٹریفک پولیس اہکاروں نے جعلی چالان بک بنایا ہے جس کی بدولت وہ پبلک ٹرانسپوٹرز اور عوام سے لوٹ مار کر رہے۔ لالچی پولیس اہکاروں کا 100 یا 200 کی رشوت سے گزارا نہیں ہو رہا تھا۔ اس لئے وہ اپنی جیپیں بھرنے کے لئے ایک نیا طریقہ لے آئے۔رشوت خوری کے اس کھیل کو روکنے کے لئے پنجاب ٹریفک پولیس کے آئی جی نے صوبے بھر میں چیف ٹریفک پولیس آفیسرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کھیل کو روکنے کے لئے شہر بھر میں چھاپے ماریں اور ایسے پولیس اہکاروں کو پکڑیں۔

آئی جی ٹریفک محمد فاروق مظہر نے پولیس اہکاروں کے خلاف بڑھتی ہوئی کرپشن رپورٹ کو مدِ نطر رکھتے ہوئے سارے شہروں کے ٹریفک افسران کو خط لکھا ہے جس میں وہ ان کو یہ بات واضع کر رہے ہیں کہ ٹریفک پولیس افسران کی رشوت خوری میں ملوث ہونے کی شکایات کے باوجود اور میڈیا پر ریپورٹس شائع ہونے کے باوجود ایسے افسران کو پکڑنے یا روکنے کے لئے کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ CTOs اور DPOs جعلی چالان کے ذریعے عوام کو لوٹنے والے اہکاروں کو پکڑنے کے ساتھ ساتھ اس بات کے بھی ذمہ دار ہیں کہ ٹریفک پولیس اہلکار عوام سے ٹریفک اصولوں کی پابندی نہ کرنے پر مہانہ رشوت نہ لیں۔ مزید انہوں نے کہا کہ وہ شہر بھر میں ایسے اہلکاروں کو سامنے لانے کے لئے چھاپے ماریں اور جو اہلکار رشوت خوری اور لوٹ مار میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف ادارئے کی سطع پر کاوائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us