تھر کے بچوں کو کون بچائے گا؟

تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ مزید تین معصوم بچے جن کی عمر ایک سال سے بھی کم ہے جان کی بازی ہار گئے۔ مٹھی میں ایک بچہ جس کو پیدا ہوئے کچھ گھنٹے ہی ہوئے تھے جان کی بازی ہار گیا۔ قریبی گاؤں میں ایک 8 ماہ کا بچہ ہسپتال میں لڑتے لڑتے چل بسا۔ ذرائع کے مطابق تھر میں ایک دو سالہ بچہ بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا اور خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

تھر میں پچھلے آٹھ مہینوں میں فوت ہونے والے بچوں کی تعداد 593 ہوگئی ہے۔ تھر میں بچے روزانہ مرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ غذا کی کمی کے باعث وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہاں خواتین غذا کی کمی کا شکار ہوتی ہیں اور ان کے جسم میں اتنی قوت نہیں ہوتی کی وہ بچوں کو دودھ پلا سکیں۔

عورتوں میں کمزوری کے باعث زیادہ تر بچے تو پیدا ہوتے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ پیدا ہو کر بیماریوں سے جنگ لڑتے اور تکلیفیں سہتے سہتے ایک دن ہار جاتے ہیں۔ سندھ حکمران یہ دعوہ کرتے ہیں کہ وہ سندھ کی عوام کو بہترین سہولتیں دے رہے ہیں جب کہ تھر میں ہر روز بچے مر رہے ہیں۔ یہ جو معصوم بچے ہر روز مر رہے ہیں ان کی جانوں کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ ہر روز جانیں جا رہیں ہیں اس بات کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us