تھر پار کر میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ

تھر پار کر میں مہنگائی کے باعث بچوں کی اموات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ روزگار نہ ملنے پر مزدور طبقہ پریشان ہے۔ جس کی وجہ سے غذائی ضروریات پوری نہیں ہورہی ہیں۔ ضلع تھرپار کر میں مہنگائی نے اپنے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ غریب دیہاڑی پر 300 روپے مزدوری کرکے کمانے والا اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتا ہے۔ ادویات مہنگی ہیں بیمار پڑنے پر دوائیاں خرید نہیں سکتا علاج نہیں کرواسکتا۔ تعلیمی اخراجات کاپیاں کتابیں اسکول فیس زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلواسکتا ہے۔

تھر پار کر میں آٹا 50 روپے کلو ، دالیں 220 روپے کلو ، تک پہنچ گئیں ہیں۔ چینی ، گھی غریب کی پہنچ سے بہت دور نکل چکا ہے۔ غریب اب پیاز کلی چٹنی پر بھی گزارا نہیں کرسکتا کیونکہ پیاز سو روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ ٹماٹر 270 روپے کلو، توری بھنڈی ، کریلے 150 روپے کلو ، آلو 40 روپے کلو، فروٹ کے ریٹ تو سبزیوں کے بھی دگنے ہیں۔ دکاندار ، ٹھیلے والے کسی کے پاس کوئی ریٹ لسٹ موجود نہیں ہے۔ سب من مانے ریٹ پر اشیا فروخت کر رہے ہیں۔ ، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے حکومت کی جانب سے کوئی اعلی عیدیدار ان کی خبر لینے والا نہیں۔ حیدرآباد اور تھرپار کر میں اشیا کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اتنی مہنگائی کی وجہ سے تھر پار کر میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ پانچ روز میں تھرپارکر میں آٹھ خودکشی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات نہیں کررہی ہے۔ انتظامیہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی تھر پارکر میں غذائی قلت کے باعث بچوں کی بہت بڑی تعداد میں اموات ہونے پر خنروں میں ضرور شامل کیا گیا مگر انتظامیہ کی جانب سے آج بھی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور اب وہاں مہنگائی سے پریشان عوام  خودکشی کرنےے پر مجبور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us