تپتی دھوپ میں تعلیم، سندھ کے اسکول ایک خطرہ

ضلع ٹھٹہ کے ٹائون دھابیجی میں اسکول کی چھتیں گرنے لگ گئی ہیں۔ اسکول کی بلڈنگ کو سن 1974 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اب اس کی حالت خستہ ہو چکی ہے۔ دھابیجی ٹائون کے پرائمری اسکول میں 250 سے زائد شاگرد زیزِ تعلیم ہیں۔

زخمی ہونے کے ڈر سے بچے دھوپ میں بیٹھ کت تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اکثر والدین تو اپنے بچوں کے زخمی ہو جانے کے ڈر سے اسکول نہیں بھیجتے۔ اسکول کے تعمیر ہونے کے بعد اسکول کی مرمت پر کوئی کام نہیں ہوا۔ اسکول کے ہیڈماسٹر کا کہنا ہے کہ اسکول کی بلڈنگ اب ناکارہ ہو چکی ہے۔ اسکول میں نہ ہی واش روم ہیں اور نہ کوئی پلے گرائونڈ۔ جو کمرے ہیں وہ بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہیں۔ اسکول کی دیواروں پر دراڑیں پڑ گئی ہے۔ زیادہ والدین نے خوفزدہ ہو کر بچوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیا ہے۔

سندھ کے اسکولوں میں بچے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں میں غیر محفوظ ہیں۔ ان کی جانیں خطرے میں ہیں۔ یہ پرانی دیواریں معصوم بچوں پر کبھی بھی گر سکتی ہیں۔ جان بچانے کے لئے محصوم بچوں کو گرمی کے موسم میں دھوپ میں بٹھا کر تعلیم دی جاتی ہے۔ سندھ کی جان لیوا گرمی میں بچے دھوپ میں بیٹھے رہتے ہیں پر اس معاملے پر کوئی توجہ دینے والا نہیں۔ ان بے رحم حکمرانوں کے لئے انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

وزیر تعلیم سردار علی شاہ گہری نیند میں سو رہے ہیں۔ یہ سندھ کا کوئی ایک اسکول نہیں جو خستہ حال ہے بلکہ ایسے بھی بہت اسکول ہیں جن میں گدھوں اور کتوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ نہ کوئی پڑھانے آتا ہے اور نہ کوئی پڑھنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us