سیہل انور سیال کے ایک تیر سے دو نشانے!

سندھ کے محکمہ اینٹی کرپشن کے صوبائی وزیر سہیل انور سیال کا انوکھا کارنامہ منظر عام پر آگیا۔

صوبائی وزیر نے ایک ساتھ دو محکموں یعنی اینٹی کرپشن اور پولیس کو ذاتی خواہشات کے لئے استعمال کر ڈالا اور 20 کروڑ روپے کرپشن کیس میں گرفتار افسر کے خلاف صرف پانچ لاکھ روپے رشوت لینے کا کیس داخل کروادیا۔ گرفتار کیا اینٹی کرپشن کے محکمے نے اور کیس درج کیا پولیس نے۔

سہیل انور سیال کے حکم پر مورخہ 09 جنوری کو اینٹی کرپشن ایسٹ زون نے محکمہ تعلیم کے گریڈ 19 کے افسر محمد حسین سومرو کو ان کے آفس واقع سندھ سیکریٹریٹ سے گرفتار کیا تھا۔ صوبائی وزیر کے کہنے پر اینٹی کرپشن حکام نے محمد حسین سومرو کی گرفتاری میں قانون کی دھجیاں اڑا دیں ۔

قانوں کے مطابق اعلی حکام سے اس گرفتاری کی نہ تو کوئی منظوری لی گئی اور نہ ہی چھاپے کے وقت میجسٹریٹ کو ساتھ لیا گیا۔

صوبائی وزیر کے پی آر او کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ محمد حسین کو آئی بی اے پاس کنٹریکٹ ملازمین سے ان کو پکا کروانے کے حوالے سے صوبائی وزیر کے نام پر 20 کروڑ روپے رشوت وصول کرنے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ محمد حسین کو ٹیلیگراف اور سیلیولر شواہد پر گرفتار کیا گیا۔ جبکہ نیو ٹاون تھانے میں درج ایف آئی آر اس کے بالکل الٹ ہے۔ ایف آئی آر میں محمد حسین کو ڈی سی ایسٹ آفس کے سامنے صرف پانچ لاکھ روپے وصول کرتے ہوئے گرفتاری ظاہر کی گئی، جبکہ اس حوالے سے نہ تو کوئی ثبوت دیا گیا اور نہ ہی کوئی مدعی ظاہر ہوا۔

اینٹی کرپشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے گرفتار ملزم کے خلاف پولیس میں اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کروا کر نئی مثال قائم کردی۔مقدمے میں صرف دفعہ 420 لگائی گئی جس کی وجہ سے ملزم کی اگلے ہی روز عدالت سے ضمانت کروالی گئی۔

ذرائع کے مطابق محمد حسین کو صوبائی وزیر سہیل انور سیال کے ساتھ کچھ معاملات میں اختلافات پر گرفتار کیا گیا تھا۔

سہیل انور سیال نے ایک تیر سے دو شکار کئے ۔ ایک طرف محمد حسین کو سبق سکھایا گیا اور دوسری جانب دوسرے افسران کو بھی پیغام دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us