SmogWaliTabdeeli# لاہور کو لے ڈوبی!

گزشتہ چند روز سے پاکستانی میڈیا ایک ایسی خبر نشر کی جارہی ہے جس کا تعلق نہ سیاست سے ہے، نہ کراچی کے کچرے اور ہی ملک میں انفراسکچر سے ہے۔ لیکن یہ خبر اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل اتنے زیادہ ہیں، کہ وہ غرض ہر کسی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، خواہ وہ امیر ہوں، غریب، بچے، بڑے یا پھر بزرگ!

کیونکہ یہ مسلئہ ہے موسمیاتی تبدیلی کا۔ ایک ایسی تبدیلی، جس کے ایسے ہی اثرات ہیں، جیسے اس سونامی حکومتی تبدیلی کے!

موسمیاتی تبدیلی اور ماحول کی آلودگی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے مطابق، لاہور میں اس وقت دنیا کی سب سے بدترین قسم کی اسموگ پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور کی فضا اتنی آلودہ ہے، جو ایک دن میں ۲۰ سگریٹ پینے کے برابر ہے! تو چناچہ آپ سیگریٹ پیئیں یا لاہور آنا پسند کریں، فضائی آلودگی سے آپ کے پھیپڑے ویسے ہی متاثر ہوسکتے ہیں۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے، بھارت اور بنجاب میں نئی فصل لگانے سے پہلے، پرانی فصل کو آگ لگا کر تباہ کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد زمین صاف ہوتی ہے اور اُس میں نئی فصل بوئی جاتی ہے۔

یہ عمل بھارت اور پاکستان کے صوبے پنجاب میں سویع پیمانے پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماحول میں معمول سے کئی زیادہ اسموگ پایا جاتا ہے۔

ہوا کا تناسب اور رخ بدلنے کی وجہ سے، یہ اسموگ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں زیادہ محسوس کیا جاتا ہے۔

لاہور میں اسموگ اور ماحول کی آلودگی کی صورتحال اس قدر بدترین ہے، جس کی وجہ سے اسکولوں کو چھٹی بھی دے دی گئی ہے۔

بڑھتے ہوئے اسموگ کی وجہ سے سینے اور آنکھوں میں جلن، سانس لینے میں دشواری، چکر آنا، اور کئی جلد کی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

حکومت اس وقت اس معاملے کو حل کرنے کے بجائے، بدستور، سابقہ حکومت پر الزام تراشی اور جملے بازی ہی کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us