عدالت میں کمال کا مذاق

شہر کراچی بد نصیب شہر نہیں تھا مگر حکومتی اداروں اور عہدیداروں سمیت عوام نے اس پر بد نصیبی کا ٹیگ لگانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

اب جب یہ شہر بے ہنگم طریقے سے بڑھ گیا اور سارے مسائل کنٹرول سے باہر ہوگئے ایسے میں کچھ ٹھیکیدار سیاستدان سیاست کرنے کے لیے تیار نظر آئے جن میں پی ایس پی کے چیئرمین مصطفی کمال جو سابق ناظم کراچی کے طور صرف کراچی کو ان درختوں کو تحفہ دے گئے جن سے شہر بارشوں سے محروم ہوگیا، میئر کراچی وسیم اختر جنہوں نے پچھلے تین سالوں سے کراچی کے لیے ایک ڈھیلے کا کام نہیں کیا اور سندھ حکومت جو صرف الیکشن کے وقت ہی نظر آتی ہے۔ اب ان تمام سیاسی پارٹیوں کے ایک دوسروں کو طعنے اور لعنت ملامت کرنے کے سوا کراچی کی سیاست میں کچھ نہیں ہورہا۔

مصطفی کمال نے 90 دنوں میں شہر کو صاف کرنے کا دعوی کردیا۔ انکے دعوے سے متاثر ہوکر میئر کراچی وسیم اختر نے انتہائی بچکانہ فیصلہ کیا کہ پی ایس پی کے چیئرمین کو پروجیکٹ  ڈائریکٹر گاربیج بنادیا اور 24 گھنٹے مکمل ہونے سے پہلے ہی معطل کردیا۔ میئرکراچی کے معطلی کے نوٹیفیکیشن کیخلاف محمد اقبال کاظمی نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی۔ جسے مسترد کردیا گیا۔ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا مذاق کرنے یہاں آئے ہیں۔ وہ قانون بتا دیں جس کے تحت اس طرح تعیناتی کی جاتی ہو۔ جب تقرری ہی ضابطے کے تحت نہیں ہوئی تو معطلی کے خلاف کیسے عدالت میں آسکتے ہیں۔ درخواست گزار عدالت کے سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہا جس پر عدالت نے خبردار کیا کہ آئندہ اس طرح کی درخواست لے کرآئے تو جیل بھیج دیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا میئر کراچی وسیم اختر یہ نہیں جانتے تھے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی اسطرح تعیناتی نہیں کی جاسکتی؟ کیا اس تعیناتی اور معطلی کے پیچھے ایم کیو ایم پاکستان میں مستقبل میں ہونے والی نئی ٹوٹ پھوٹ ہے؟  کب تک کراچی وسیم اختر جیسے لاعلم اور نا اہل حکمرانوں کو جھیلتا رہے گا؟ اور کیا اس کرپٹ معاشرے سے کراچی کے حصے میں کوئی مخلص سیاستدان آسکے گا؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us