سال بھر کی ہوس، محبت کا بس ایک دن۔۔۔!

محبت میں اگر عریانیت ہو تو وہ محبت نہیں ہوس بن جاتی ہے۔ محبت ہے ہی وہی جو پاکیزہ ہو۔ کیا آج محبت میں جسم کی خوبصورتی اور روح کی تروتازگی کا کوئی مقابلہ ہے یا پھر نہیں؟ یا پھر آج کے دور میں محبت کے علمبردار اس لفظ کی روح سے واقف ہیں بھی یا نہیں؟ پہلے کی محبتیں کچھ اس طرح کی ہوتیں تھیں۔

حسرت موہانی فرماتے ہیں

دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا

شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا

محبت میں اظہار ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس پر ہر شخص اپنی الگ رائے رکھتا ہے۔ لیکن جو بات غور طلب ہے وہ یہ کہ مشرقی تہذیب میں محبت کا اظہار زیادہ تر اپنے عمل سے ہی کیا جاتا ہے۔ یعنی اپنے محبوب کی خواہشوں ضرورتوں کا خیال رکھ کر اور اسکے مزاج کے موسموں کے مطابق خود کو ڈھال کر۔ اظہار کرنے کی یہ رسم کچھ سال قبل تک ہمارے معاشرے میں عام تھی۔

کہتے ہیں اگر چار دن جانور کو بھی ساتھ رکھو تو اس سے بھی انسیت ہوجاتی ہے مگر آج کے انسان کو جانے کیا ہوگیا ہے جو وہ ہر دوسرے شخص سے با آسانی محبت ہونے کا دعوی کربیٹھتا ہے۔ اب یہ تو اللہ ہی جانے کے یہ ہوس کی بھوک ہے یا واقعی محبت۔

پروین شاکر لکھتی ہیں

کون جانے کے نئے سال میں تو کس کو پڑھے

تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

ہم مشرقی لوگ بھی ایک نمبر کے دوغلے ہیں مغرب کو گالی دینے میں آگے آگے نظر آتے ہیں مگر اس کے کلچر کو ایسے اپناتے ہیں جیسے وہ کسی عطا کی صورت میں ہمیں مل رہا ہو۔ اپنانے کے لیے اس کی اصل جو کہ پہلے ہی مسخ شدہ ہے اس کو مزید بگاڑ کر اپنی تہذیب میں شامل کرلیتے ہیں۔

اب مدرز ڈے (ماں سے محبت کا عالمی دن) اور فادرز دے (باپ سے محبت کا عالمی دن) کو ہی لے لیجیے۔۔۔۔۔ ماں باپ جو ہر روز ہی اولاد کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کے حقدار ہیں انہیں صرف ایک دن پیار کرنا ہماری تہذیب کا حصہ تو بلکل نہیں تھا۔ کچھ یہی حال ہم نے پیار اور خلوص سے بننے والے رشتے کا بھی کیا۔

میاں بیوی محبت سے ساتھ بیٹھیں، ایک دوسرے کا خیال کریں، آپس میں عزت و محبت سے بات چیت کرتے نظر آجائیں تو مشرقی تہذیب کے کچھ پیروکاروں پر یہ بات گراں گزرتی ہے۔ حالانکہ یہ عادت واطوار تو مشرقی تہذیب کا حصہ ہیں تو پھر ایک جائز تعلق ہونے کے باوجود آخر کیوں پیار کرنے والے اتنی نفرت کا شکار ہیں؟ اور پھر رہی سہی کسر ویلنٹائن ڈے نے پوری کردی۔ 

ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کئی کہانیاں مشہور ہیں جن میں ایک داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا۔ بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہیں لہذا اس نے شادی پر پابندی لگادی اور زنا کو عام کردیا لیکن ویلنٹائن پادری نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی کی بلکہ  دوسرے لوگوں کی شادیاں بھی کروائیں۔ جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14 فروری کو اسے پھانسی دے دی۔

جبکہ ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ”سترہویں صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ایک راہبہ کی محبت میں مبتلا ہو گیا، چوں کہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا، اس لیے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات بھی قائم کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے اس پر یقین کر لیا اور کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے۔ یعنی ان دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد چند لوگوں نے انہیں محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا اور ان کی یاد میں یہ دن منانا شروع کر دیا۔ اکثر تاریخی کتابیں بتاتی ہیں کہ یہ ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔ اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق یا تو رومیوں کے دیوتا لو پرکالیا کے حوالہ سے پندرہ فروری کو منائے جانے والے تہوار بارآوری یا پرندوں کے ایامِ اختلاط سے ہے۔

لال کپڑے پہنے جوڑے، لال غباروں سے سجے بازار اور شاپنگ مالز ، چاکلیٹ اور کارڈز کا تبادلہ کرتے کچے ذہنوں کے بچے، فیملی پارک میں نازیبا حرکات، بچے بچیوں کا چھپ چھپ کر غلط جگہوں پر جانا اس وبال کا شکار صرف بچے ہی نہیں نوجوان، ادھیڑ عمر افراد سمیت مرد و عورت سب ہی ہوئے ہیں۔ نوے کی دہائی میں بچے اسکول کالجز جاتے تھے تو انکا مقصد ہوتا تھا کہ پڑھائی پڑھائی اور صرف پڑھائی مگر آج یہ مقصد صرف پڑھائی سے رہائی پر منتقل ہوگیا ہے۔  

محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے جیسے کسی بھی رشتے کی عمارت کو مضبوطی دینے کے لیے گارے کی طرح عمارت  کے ستونوں پر پلایا جاتا ہے لیکن یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اگر اس عمارت کو کسی ایسی زمین پر بنادیا جائے جس کے مالک ہونے کے پکے کاغذ آپکے پاس نہیں تو اس عمارت کی بنیادوں کو کبھی بھی گرایا جاسکتا ہے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us