بلوچستان: پولیس رشیین عورتوں کے ہاتھوں قتل

بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں تین رشیا سے تعلق رکھنے والی خاتون قیدیوں کا خاتون پولیس کانسٹیبل پر حملہ۔ تین خواتین آپس میں روم میٹس تھیں۔ یہ واقع گڈانی شہر میں قائم جیل میں پیش آیا۔ یہ واقع پیر کی رات پیش آیا۔

قتل ہونے والی خاتون پولیس کانسیٹیبل کا تعلق گڈانی شہر سے تھا۔ حملہ آور عورتوں نے پہلے خاتون پولیس کے سر پر روز سے مارا، اس کو نڈھال کیا، بعد ازاں اس کا رسی سے گلا دبا کر اس کو قتل کر دیا۔ قتل ہونے والی خاتون کا نام زویا بنتِ یحیٰی تھا اور اس کی عمر صرف 23 سال تھی۔

اس واقعے نے بلوچستان میں واقع جیلوں کی سکیورٹی پر سخت سوالات اٹھائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ واقع جیلوں میں ناقض سیکیورٹی انتظامات اور جیلوں میں تعینات افسران کی نا اہلی کی جانب نشاندہی کر رہا ہے۔ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کرنا شروع کر دی ہے۔ بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیاء لانگو نے اس واقعے کا نوٹس لے لیا اور پولیس کے اعلٰی افسران کو ہدایت کی ہے کہ اس کیس کی اچھے سے تحقیقات کریں۔

پچھلے سال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے رپورٹ چھایا کی ہے، جس میں انہوں نے بلوچستان میں قائم جیلوں کی بدترین صورتحال کے حوالے سے لکھا ہے۔ جس میں انہوں نے یہ بات واضع کی ہے کہ بلوچستان کے جیلوں میں موجودہ مسائل نے جیلوں کا نظام تحس نحس کر دیا ہے۔ وہاں کے جیلوں کے سخت مالیاتی بدحالی کا شکار ہیں اور وہاں پر عملے کی بھی کمی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us