پیسہ دیں اور آزاد ہوجائیں!

کچھ لوگ ہوتے ہیں جو تھوڑے میں بھی اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی ان کو مزید نوازتا ہے۔ ان کی عزت دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالٰی عزت اور شہرت دونوں دیتا ہے، مگر وہ پھر غرور اور تکبر میں آکر اللہ تعالٰی کا شکر بجا نہیں لاتے۔ ایسا ہی کچھ میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہوا، اللہ تعالٰی نے ان کو عزت دی، دو بار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیرِ اعلٰی بنایا اور تین بار پاکستان کا وزیر اعظم بنایا لیکن انہوں نے ہمیشہ عوام کو مایوس کیا، اور جھوٹ بولتے رہے۔ پہلے دو بار بھی کرسی سے ہٹایا گیا مگر اس بار ان کے ساتھ کچھ زیادہ ہی ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ کے کارکنان کو کے الیکٹرک کا سہارا

جب ان کا نام پانامہ پیپرز میں آیا تو ملکی سیاست میں ایک ہلچل سی مچ گئی، اپوزیشن ڈٹ گئی کہ اب میاں صاحب سے استعفی لے کر رہیں گے۔ اپوزیشن نے زور دیا کہ میاں صاحب کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور مستعفی ہونا پڑے گا، مگر میاں صاحب نے انکار کیا۔ مگر آخر میاں صاحب کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑ گیا۔ میاں نواز شریف صاحب جے آئی ٹی کے سامنے تسلی بخش جوابات نہیں دے پائے۔ پھر میاں صاحب پر ایون فیلڈ کا کیس درج ہوگیا، جس میں میاں صاحب پر یہ الزام لگایا گیا کہ ان کے برطانیہ میں اپارٹمنٹس ہیں۔ مگر اس پر بھی انہوں نے قطری خط کا ذکر کیا اور عوام کے ساتھ بھی جھوٹ بولتے رہے کہ ان کی برطانیہ میں کوئی جائیداد نہیں۔ آخر قطری خط بھی جھوٹا نکلا اور ان کو سزا سنائی گئی اور اڈیالہ جیل بھیجا گیا۔ اس کے بعد ان کے خلاف چودھری شوگر ملز کیس سامنے آیا جس کی سنوائی ابھی تک چل رہی ہے۔

آخرکار 2018 میں الیکشن ہوئے، جس میں عمران خان کو پہلی بار حکومت بنانے کا موقع ملا۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرنا شروع کیا اور ملک کو لوٹنے والوں کو جیل بھیج دیا۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کئی بار احتجاج کیا گیا کہ نواز شریف معصوم ہیں ان کو آزاد کردیا جائے مگر ان کے احتجاج کا حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

اب مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمٰن کو مہرا بنا رہی ہے کہ آپ مارچ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ کسی بھی طرح نواز شریف کو رہا کردیا جائے، دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی کھوئی ہوئی دولت واپس کریں، ہم انہیں آزاد کر دیتے ہیں۔ مگر اس وقت (ن) لیگ خاموش ہے اور کوئی ڈیل نہیں کر رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پیسہ واپس کئے بنا نواز شریف کو آزاد کیا جائے۔ نواز شریف کے چاہنے والے نواز شریف کی رہائی کے لئے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ٹرینڈز چلا رہے ہیں اور ان کی آزادی کے لئے مطالبہ کر رہے ہیں۔

میرا ان کو مشورہ ہے کہ نواز شریف صاحب حکومت سے ڈیل کریں اور ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں پھر سیاست سے کنارا کشی کر لیں اور کہیں دوسرے ملک جا کر بس جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us