قاسم سلیمانی کا قتل: امریکہ آخر کیا چاہتا ہے؟

۳ جنوری ۲۰۲۰: امریکہ کا ایرانی ایلیٹ فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو عراق میں ہلاک کرنے کے بعد  خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنے کی بڑی کوشش۔ آنے والے دنوں میں اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، ایرانی صدر کی وارنگ جاری۔

عراق میں داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے اور عراق اور شام میں امریکی فوج کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے لیڈر کرنل قاسم سلیمانی اس وقت منظر عام پر آئے جب ۲۰۰۳ میں  امریکی فوج عراق میں براہراست گئی۔

قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ لیڈر تھے جنہوں نے اپنی کمانڈ کے اندر امریکی اور اسرائیلی فوج کو عراق اور شام کا مکمل کنٹرول نہیں لینے دیا۔ ایک عالمی پراکسی جنگ کے وہ نمایاں کھلاڑی رہے جس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل دونوں کے مفاد کے لیے وہ ناگوار تھے۔

قاسم سلیمانی کے کردار کے بارے میں امریکی صدر جاش بش اور باراک اوباما دونوں علم رکھتے تھے لیکن وہ یہ بات بھی جانتے تھے اگر ایران کے اس کمانڈر پر ہاٹھ ڈالا گیا تو یہ خطے کے امن اور امریکہ کا مڈل ایسٹ میں کردار کو مشکوک بنا دے گا۔ یہ خارجہ معاملات اور امریکہ کا اس خطے میں موجودگی دونوں کے لیے ایک ڈپلومیٹک خودکشی ہوگی۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے جہاں ایران اور عراق میں نیوکلیئر آرسینل رکھنے پر پہلے ہی کئی عالمی پابندیاں لگا کر اس کی معیشت تباہ کردی ہے، وہیں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو عراق کے دارلحکومت بغداد میں قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں مارنے کی منظوری دی گئی۔

اس کے حوالے سے عراق کا باضابطہ مؤقف آنا تو رہتا ہے لیکن ایران بہرحال یہ بات واضع کر چکا ہے کہ وہ اس واقعہ کا بدلہ ضرور لے گا۔

اس واقع کے حوالے سے کئی عالمی تجزیہ کار تیسری جنگ عظیم ہونے کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں، کہاں مسلع گروہوں کی جانب سے اس حوالے سے ایران کی حمایت کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں شیعہ اکثریت شہروں میں آج بھی قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے احتجاجی اور تعزیتی ریلیاں نکالی گئیں۔ کئی افراد اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں، کہ اس کے بعد نہ صرف ملک بھر میں، بلکہ عالمی سطع پر بھی شیعہ سنی تنازع بڑھے گا۔

عالمی منڈی میں پہلے ہی خام تیل کی قیمت ۴ فیصد بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے، کہ یہ وہی ایرانی کمانڈر ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے بغیر ترکی، ایران، ملیشیاء، قطر اور دیگر مسلم ممالک کو ایک پیج پر جمع کیا گیا، جس میں پاکستان کو شرکت سے سعودی عرب کی جانب سے روکا گیا تھا۔

اس واقعے کے اور بھی کئی چھپے پہلو اور آگے ہونے والے اس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us