خاتون کے کپڑے پھاڑ دیے گئے، پولیس کی غنڈا گردی

پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں پولیس کی بد ماشی اور غنڈا گردی۔ غریب خاتون کو  جو کہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پا رہی تھی، پولیس اہلکار اس کے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھا کر اس کے گھر میں داخل ہوئے اور خاتون کے ساتھ بد سلوکی کی۔

پولیس والوں کی ٹیم رضیا بی بی کے گھر آئی اور ایک پولیس اہلکار رضیہ بی بی کے گھر کے باہر کھڑا رہا اور باہر سے کنڈی لگا دی، جیسے رضیہ بی بی باہر نہ آسکیں۔ پولیس کے غنڈوں نے رضیہ بی بی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے کپڑے تک پھاڑ دئے۔

پولیس والوں نے رضیہ بی بی پر منشیات فروشی کا الزام لگایا اور تمام اہلِ خانہ کے ساتھ بد سلوکی اور مار پیٹ کی۔ اگر پولیس اہکاروں کو رضیہ بی بی پر شک تھا تو پھر خاتون پولیس کس لئے بنائی گئی ہے۔ ایک مرد پولیس اہکار ایک عورت پر کیسے ہاتھ اٹھا سکتا ہے، کیسے اس کے کپڑے پھاڑ سکتا ہے۔ دنیا کا کوئی قانون کوئی ملک اس قسم کی بد سلوکی اور غنڈا گردی کی اجازت نہیں دیتا۔

پنجاب پولیس وردی پہن کر غنڈا گردی کر رہی ہے، یہ سوچ کر کہ ان کو کوئی کچھ کہنے والا نہیں۔ رضیہ بی بی نے بتایا کہ پولیس اہکارون نے مار پیٹ کرنے کے بعد اس کی محنت مزدوری کی کمائی جو اس نے لوگوں کے گھروں میں کام کرکے سخت محنت سے کمائی تھی، وہ بھی چوری کرکے لے گئے۔

ایسے پولیس اہلکار وردی کا غلط استعمال کرکے غنڈا گردی کر رہے ہیں۔ آئی جی پولیس کو چاہیئے کہ پنجاب پولیس سے گند صاف کریں اور ان اہکاروں کے خلاف سخت کاروائی کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us