نئے پاکستان والوں کا نئے سال کا تحفہ، لیکن صرف اپنوں کے لیے!

مشکلوں، محاظوں، گرفتاریوں، توسیعوں اور سچے جھوٹے وعدوں کے ساتھ، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال، چھ ماہ مکمل ہو ہی گئے۔ لیکن اس حکومت نے جاتے جاتے ایک ایسا نیو ائیر گفٹ دے دیا، جس پر ابھی آگے آنے والے سال کئی بحث، مباحثے اور سیاسی چہمگوئیاں ہونگی۔ ارے نہیں نہیں، اس میں اس ملک کی غریب عوام، میرے اور آپ کے لیے تو کچھ نہیں ہے کیونکہ ہمارے اور آپ کے لیے تو بڑھتے پٹرول اور گیس کی قیمتیں، مہنگائی اور بے روزگاری ہے ہی۔ لیکن یہ نیو ائیر گفٹ عمران خان صاحب کی حکومت نے فقط ان لوگوں، اپنے سیاسی اور بزنس پارٹنرز، گورنمنٹ آفیسروں اور بیوروکریٹ افراد کے لیے ہے جن کو نیب، بقول ان کے خود "harass” کرتا تھا۔ احتساب کے نام پر ان سے ان کے بزنس کے ریکارڈ مانگے جاتے تھے اور ٹھوس شواہد نہ ملنے پر عدالتوں اور نیب کے دفتروں میں ان کی خصوصی پیشیاں لگتی تھیں۔ ان کو اپنی سچائی ثابت کرنی پڑتی تھی اور اس بات کا ثبوت دینا ہوتا تھا کہ کہیں انہوں نے ٹیکس چوری تو نہیں کیا؟ کرپشن نہیں کی؟ کسی سے رشوت یا ناجائز طریقے سے پیسے تو نہیں بنائے؟ یا کیا اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا؟

ان تمام باتوں سے عمران خان کو لگا، ان کے ملک کے بزنس مین، تاجر اور بیوروکریٹ، سیاسی عمائدین وغیرہ "Harass” ہوتے ہیں اور ایسے میں وہ بیروزگار نوجوانوں کی طرح ملک بھی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ تو کیوں نہ نیب، جو کہ اس پورے احتساب کے عمل کے پیچھے ہے، اُسی کے ایسے تمام اختیارات اُس سے لے لیے جائیں اور پھر یہی اختیارات ایک ایسے ادارے کو دے دیے جائیں جو ان تمام موضوعات اور اس طرح کے معاملات کے لیے بنا ہی نہیں ہے، اُسے دے دیا جائے۔۔۔

بزنس کمیونٹی، بیوروکریٹ اور کرپٹ سیاسی ساتھیوں کو تو بچا لیا۔۔۔ لیکن حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نئے صدارتی آرڈینیس میں ایک ایسی شق بھی رکھ دی گئی ہےجس سے اپوزیشن اراکین، خاص کر کے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وہ افراد جن کو نیب نے کسی نہ کسی میں بے جا گرفتار یا زیر تفتیش رکھا، وہ رہائی پانے کے بعد اب نیب پر کیس بھی نہیں کر سکیں گے۔

ایسی صورتحال میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن کی جانب سے نیب قوانین میں ترامیم کا بل پیش کرنے کی بات کی گئی تو حکومتی اراکین کی جانب سے اس کی کوششوں کو ڈی-ریل کیا گیا اور اس بارے میں بحث کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ نیب کے انہی قوانین کے ساتھ پوری اپوزیشن کو نشانہ بنایا گیا، اپوزیش لیڈروں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا۔ پھر جب حکومت کو لگا کہ ان کا مقصد پورا ہو گیا ہے تو پھر ان ایک صدارتی آڈر جاری کر کے نیب کے قوانین میں ترمیم کر دی گئی۔ جو کہ چار ماہ تک رہیں گی اور پھر اس کے بعد وہ اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کی جائیں گی۔

ماہرین اور نیب ڈرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے صدارتی آرڈینینس میں یہ بات واضع ہے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے کیسس نیب اب نہیں دیکھے گا جبکہ نیب میں موجود ساٹھ فیصد کیسس اسی بارے میں ہیں۔

اس صورتحال میں، جہاں بزنس کمیونٹی، بیوروکریٹ، اور سیاسی ساتھیوں کو کھل کر کالا پیسہ بنانے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور ٹیکس چوری کرنا، عوام کو دھوکہ دینے کی چھوٹ دے دی گئی ہے، وہیں نیب کے افسروں کے لیے بھی اب آرام کے دن آنے والے ہیں کیونکہ جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے، ان کا کام بھی دن دگنا، رات چگنا ہو گیا تھا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us