کے الیکٹرک کے بعد واٹر بورڈ بھی؟

واٹر بورڈ کے سابق ایم ڈی خالد شیخ اور موجودہ ایم ڈی اسداللہ غیر قانونی طور پر نجی کمپنی کے ساتھ نجکاری کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

رپوٹ کے مطابق ایم ڈی واٹر بورڈ اپنی ملازمت بچانے اور ہیومن ریسورس سمیت دیگر افسران نجی کمپنی میں اپنی اور اپنے بچوں کی ملازمت لگوانے کے لیے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صرف ایک ضلع کی نجکاری سے ادارے کو سالانہ 6 ارب کا نقصان پہنچے گا اور ہزاروں ملازمین متاثر ہونگے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ کی اجازت سے ادارے کے تمام حساس دستاویزات نجی کمپنی کو بھیجے گئے ہیں۔  افسران کے درمیان ہوٹلوں میں ملاقاتیں جاری ہیں۔ نجکاری کے بعد شہریوں زائد بلنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واٹر بورڈ کی نجکاری کی مخالفت کرتے ہوئے پیپلز لیبر یونین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے جنرل سیکریٹری محسن نے کہاہے کہ پیپلز لیبر یونین کسی طور بھی ادارے کی نجکاری کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نہ صرفاپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہوچکے ہیں بلکہ اندرونی معاملات کے اختیارات سابق ایم ڈی کو منتقل کیے جاچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us