سندھ کی پکار: کس کی روٹی؟ کس کا کپڑا؟ کس کا مکان؟

سندھ میں پی ٹی آئی کے آنے کے بعد پیپلرز پارٹی کچھ حد تک دم توڑنے لگی تھی، مگر اچانک سے کراچی صوبے کی آوازیں اٹھنے لگی۔ اس پکار نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں راج کرنے کا کو ایک اور موقع دے دیا۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی کرپشن اور دو نمبری چھپانے کے لئے ایک اور وجہ مل گئی۔ اب صوبے کے نام پر سیاست کرکے پیپلز پارٹی سندھی عوام سے وؤٹ لے گی۔ پہلے کچھ حد تک سندھ کی عوام پیپلز پارٹی کے خلاف ہو گئی تھی اور پی ٹی آئی کے سپورٹ میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی، مگر صوبے کی للکار نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے قدم اور مضبوط کر دئے ہیں۔

کرتوتوں کو ان دیکھا کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست یہ ہے کہ وہ سندھ کی عوام کا سب سے بڑا دوست اور مخلص ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں، مگر حقیقت بلکل ہی الگ ہے۔ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے دس سالوں پر سندھ پر راج کیا ہے۔۔۔ مگر سندھ کی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ اگر کسی کو پیپلز پارٹی کی سندھ کے عوام کے ساتھ اور اس سندھ کی زمین کے ساتھ مخلصی دیکھنی ہو تو وہ سندھ کا دورہ کر لیں۔ سندھ کے ہسپتال، تعلیمی ادارے اور روڈ، سندھ سے پیپلز پارٹی کی دشمنی کا چیخ چیخ کر اظہار کر رہے ہیں۔ مخلصی صرف یہ نہیں ہوتی کہ سندھ کو توڑنے سے روکا جائے۔ مخلصی یہ ہے کہ وہ سندھ کو ترقی کی طرف لے جائیں نہ کہ بربادی اور جہالت کے اندھیروں میں دھکیلیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us