نئے سیاستدان، پرانی اسکرپٹ کے ساتھ!

نواز شریف کی بیماری کس نے لکھی ہے ۔۔؟

حکومتیں بدلتی رہیں، لیکن اسکرپٹ نہ بدلا!

نواز شریف سنگین بیمار ہے وہ جیل سے اسپتال آءے ۔ دنوں میں ضمانت ہو گئی ۔۔۔ مریم نواز با ہر آگئی یا لے آئی گئیں ۔۔۔؟ مگر جس کسی نے اسکرپٹ لکھا ہے بہت شاندار لکھا ہے ۔ مگر سارا کاپی کیا ہوا ہے ۔

مولانا کا دھرنا، نواز شریف کا جیل سے باہر آنا اور باہر آہ کر ملک سے ہی باہر چلے جانا۔۔۔ یہ کہانی کچھ نئی نہیں صاحب بلکہ بھت پرانی ہے۔ کہانی تو پرانی ہے ہی، لیکن اس کی تو اسکرپٹ بھی پرانی اور جانی پہچانی معلوم ہوتی ہے۔ فرق صرف چہروں اور اداکاروں کا ہے۔

پہلے اس کہانی میں نواز شریف کی جگہ ایک جابر ڈکٹیٹر تھا اب ایک ‘بھولا بھالا آدمی’ ہے جو کہتا تھا کہ مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا؟ پہلے دھرنا دینے والا لبرل تھا اور اب یہ کردار ادا کرنے کے لیے مولانا اور مفتیوں سے کروایا جارہاہے۔ پہلے جہاں اسلام آباد کے ڈی چوک پر گانے اور کانسرٹ ہوا کرتے تھے، اس بار کہانی میں تھوڑا ٹویسٹ لا کر، وہاں بیچارے مولویوں کو اسلام آباد کی سردی میں پارکوں اور میدانوں میں جھولوں کے مزے لوٹنے کا چھوڑؑ دیا ہے۔

عمران جو چپ تھے، اب وہ چپ ہی رہیں گے۔ کیونکہ پہلے نواز شریف کو ہٹانے میں ان کا نہ کوئی کردار تھا اور نہ اب ان کے باہر جانے میں وہ کوئی رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ جنہوں نے اُن کو عہدے سے فارغ کروایا، اب وہی ہی ان کی رسی ڈھیلی کر رہے ہیں۔

خان صاحب، وہ جو کہتے تھے کہ میں ان کو رولاوٗں گا، دراصل جانتے ہی نہیں تھے کہ شاید مقافات عمل کے تحت ہی سہی، شاید ان کے اپنے رونے کے دن ہی قریب نہ آہ جائیں۔

مولانا تو حکومت کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھ گئے، جس کے ثمرات نواز شریف کی رہائی اور پھر ابھی چند ہی روز میں اُن کی شہباز شریف کے ہمراہ بیرون ملک جانے (متوقع) کے طور پر سامنے آہ رہے ہیں، دراصل خالصتاٌ صرف دھرنے کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ کہا یہ جارہا ہے کہ سالوں کے حریفوں کے درمیان کوئی ڈیل طے پا گئی ہے۔

باتیں تو فلحال یہ بھی کی جارہیں ہیں، کہ یہ جو بلاول بھٹو کی پارٹی ان دنوں کطھ چپ نظر آتی ہے، اس کے پیچھے بھی کوئی بڑی وجہ ہے۔۔۔ یا شاید وہ اپنی ڈیل کی باری کے انتظار میں چپ ہیں۔

جس طرح سال ۲۰۱۴ کے دھرنے سے پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے، بالکل اسی طرح اس دھرنے سے شریف خقاندان کو ملک سے باہر جانے کا راستہ فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ بات صرف ہم ہی نہیں، بلکہ سب ہی لوگ کہہ رہے ہیں۔ اور سب لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں، جس نے نواز شریف کی رسی کھنچی، وہ ہی اب ان کی رسی ڈھیلی کر رہے ہیں۔

لیکن اس سب میں ہمیں آخر خیال آتا ہے کہ کب تک ایک ہی اسکرپٹ بار بار دھرایا جائے گا؟ اور کب تک پاکستان کی سیاست اور یہاں کے سیاستدان، اس دیکھی دیکھائی اسکرپٹ کا شکار ہوں گے؟

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us