ڈیل، ڈھیل اور مک مکا کا زمانہ۔۔۔ کیا سیاست ایسے ہی ہوتی ہے؟

ڈیل، ڈھیل اور مک مکا کا زمانہ۔۔۔ کیا ایسے ہی سیاست ہوتی ہے؟

ہم نے سنا تھا کہ سیاست اور پارلیمان کا آگے بڑھنا، ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قومی اسمبلی یا سینٹ میں کوئی بھی بل، آرڈینینس یا قانون پاس ہو، تو وہ پوری اسمبلی کی دو تہائی سے، اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے رجوع  کرنے کے بعد ہی اسپیکر کی موجودگی میں اسمبلی کی اکثریت سے پاس یا منظور ہوتا ہے۔

لیکن پاکستانی سیاست میں ایسا نہیں ہوتا۔

یہاں ڈیل، ڈھیل اور مک مکا کی سیاست کی جو روش چل پڑی ہے، اس نے سیاست، سیاستدانوں اور ایوانوں کے ہر پہلو میں خود کو سما لیا ہے۔

نواز شریف کا جیل سے بیل پہ رہا ہونا اور ملک سے باہر جانے کے لیے ان کی راہ ہموار کرنا اگرچہ ایک ڈیل اور ڈھیل قرار دی جارہی ہے، لیکن گزشتہ روز اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان، اسپیکر اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والا معاہدہ بھی کسی تاریخی ڈیل سے کم نہیں ہے۔

سات نومبر ۲۰۱۹ کو حکومت کی جانب سے اسمبلی میں گیارہ آرڈینیس، بغیر اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے رجوع کیے، بغیر ان پر بحث کیے، حکومتی ارکان کی جانب سے پیش کی گئیں جو ہاتھ کہ ہاتھ اسپیکر اسمبلی سے منظور بھی کرلیں۔

اگلے ہی روز اسمبلی میں حکومت کی اس حرکت کے خلاف اپوزیشن رہنما خواجہ آصف کی جانب سے خوب والہانہ تقریر کی گئی اور ڈیپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی اپیل بھی پیش کر دی گئی…

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک توشروع دن  سے ہی قائم ہے۔ عدالتوں میں اپوزیشن حکومت کو للکار رہی ہے اور سڑکوں پر عوام۔

ایک طرف مسلم لیگ (ن) اسمبلی میں حکومت کو کڑا وقت دے رہی ہے اور دوسری طرف مولانہ کی پارٹی جے یو آئی (ف) شاہراہوں اور سڑکوں پر عمران خان کے پیچھے پڑی ہے۔

ایسے میں جب وہ کہیں کے بھی نہیں رہے، حکومت، تو انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ ایک ڈیل کرنی چاہی۔ ایسی ڈیل جو کسی سے ڈھکی چھپی تو نہیں ہے لیکن اس اہم خبر کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جارہی۔ کیونکہ بات تو سچ ہے لیکن بات ہے رسوائی کی۔

جمعہ، پندرہ نومبر کو اسپیکر اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی میٹنگ میں فیصلہ یہ طے پایا، کہ حکومت سات نومبر کو پاس کی گئی گیارہ آرڈینینس واپس لے گی اور آپوزیشن اس کے بدلے اپنی تحریک عدم اعتماد کی درخواست واپس لے گی۔ اور یہ فیصلہ دونوں فریقوں کی جانب سے مشترکہ منظور کیا گیا۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے، کہ حکومت اس وقت ہر طرف سے اتنی مشکلات میں گھیری ہوئی ہے، کہ وہ ایک اور محاذ پر اپوزیشن کے ساتھ ٹکراوٗ برداشت نہیں کرسکتی۔

 

وہ اپوزشن کو اپنے خلاف استعمال ہونے، اور عوام کے سامنے اپنی تھوڑی سی رٹ برقرار کرنے کے لیے اب کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوسکتی ہے۔

نواز شریف کو ملک سے باہر جانے دینا بھی ان کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہ بنتا اگر وہ الیکشن سے پہلے اور بعد میں نواز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماوٗں کے خلاف اتنی سخت زبان نہ استعمال کرتے۔ سیاست کو سیاست کی طرح ہی لیتے اور سیاستدانوں پر ذاتی حملے نہ کرتے۔

ایک بڑے سیاسی کھیل میں عمران خان الیکشن سے پہلے سے ایسے استعمال ہوتے چلے گئے، کے اب وہ خود اس کھیل کے شکنجے سے نہیں نکل پا رہے۔ لیکن ابھی معاملہ اتنا نہیں بگڑا، کہ وہ اس اہم موقعے پر، جہاں مسئلہ نواز شریف کی صحت کا، ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا اور مولانہ کے دھرنے کو ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہ کرسکیں۔

ابھی بھی اگر وہ چاہے تو کیا کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔ کیونکہ اختیار تو اس کے پاس ہے ہی۔۔۔ لیکن مینڈیٹ۔۔۔؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us