سڑکوں پر پڑا خزانہ

دکان کے سامنے سے کچرا اٹھانے والے اس شخص کے چہرے پر خوشی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ہی دکان سے اتنا سارا پلاسٹک ایک ساتھ ملنے پرکتنا خوش ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ شخص اس کچرے کو بیچ کر کتنا کمائے گا؟ اس کے عوض تو ایک وقت کا پیٹ بھر کھانا بھی نہیں آئے گا پھر کیوں یہ اتنا خوش ہورہا ہے کہ جیسے اس کو کوئی بہت بڑا خزانہ مل گیا ہو۔ مگر اسکی یہ خوشی وقتی ہے کیوںکہ اس کی یہ محنت پلاسٹک ریسائکلنگ انڈسٹڑی کی نظر ہوجائے گی۔

اگرہم غور کریں تو عمومی طور پر کچرا چننے والے پلاسٹک، کاغذ اور لوہا تانبا وغیرہ الگ الگ چن کر جمع کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ سب الگ الگ بیچا جاتا ہے۔ جسکے بعد انہیں مختلف ریسائکلنگ پراسز سے گزار کر دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ جس سے بڑی بڑی انڈسٹریز ڈھیر سارا پیسہ کماتی ہیں اور یہ بیچارے کچرا جمع کرنے والے جو ساری محنت کرتے ہیں، ایک وقت کی روٹی پر صبر شکر کرلیتے ہیں۔

جن چیزوں کو ہم فضول سمجھ کر ضائع کریتے ہیں وہ کسی کے لیئے کتنی اہم ہیں اسکا ہمیں اندازہ نہیں۔ بظاہر یہ پلاسٹک کی بوتلیں کچرے کا ڈھیر ہیں مگران سے بھی کم ہی سہی، مگر ایک انسان یا کنبے کا رزق جڑا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us