بھٹو کا شہر آخر چیخ اُٹھا

 

سندھ کا وہ شہر جس کو بھٹو کا شہر کہا جاتا ہے۔ جہاں بھٹو صاحب پیدا ہوئے، وہاں کے عوام آج بد ترین صورتحال کا شکار ہیں۔ یہ حکمران جو آج بھی بھٹو کے نام پر سندھ کی لوگوں سے وؤٹ لیتے ہیں پھر بھی ان کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھتے ہیں یہ ان کے منہ پر طماچہ ہے۔ وہ پیپلزر پاڑتی جو سندھ کی عوام سے مخلصی کا دعوہ کرتی ہے، کیا یہ ہے ان کی مخلصی؟

لاڑکانہ کے ہسپتالوں میں سینیئر ڈاکٹرز نہیں۔ ایمرجنسی میں مریض بستروں پر پڑے ہیں مگر ان کو کوئی دیکھنے والا نہیں۔ وہاں کے اعلٰی افسران گھروں میں بیٹھے ہیں اور عوام پس رہے ہیں۔ عوام چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں کہ لاڑکانہ میں کوئی نظام نہیں۔ وہ چیخ چیخ کر اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لاڑکانہ کے لوگ، جو کہ بھٹو کا شہر ہے، کیا وہاں کے لوگ اس سلوک کے مستحق ہیں؟ کیا یہ ہے وہ سہولتیں جن پر پیپلزر پارٹی کو بڑا ناز ہے؟ کیا ان کو شرم نہیں آتی بھٹو کے نام پر وؤٹ مانگتے ہوئے۔ یہ صرف لاڑکانہ کی ہی نہیں بلکہ سندھ کے ہر شہر کی کہانی ہے۔ کراچی سے لے کر شکارپور تک سندھ بد حالی کا شکار ہے۔ 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us