بھارت چاہے نہ چاہے، پاکستان تو دوستی چاہتا ہے

ایک طرف لائن آف کنٹرول پر فائرنگ دوسری جانب کرتارپور راہداری۔۔۔ معاملہ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کرنا کیا چاہ رہا ہے۔ بھارت گولیاں برسائے جا رہا ہے اور پاکستان اس کو نظر انداز کرکے دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائے جا رہا ہے۔ اب تو بھارت نے حد پار کر لی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے مودی سرکار چاہتا ہی نہیں کہ پاکستان اور بھارت میں دوستی ہو۔ دوسری جانب پاکستان بھارت کی جانب سے کی جانے والی گولا باری فائرنگ اور کشمیر میں بھارتی مظالم کو نظر انداز کرکے ہر حال میں دوستی کرنا چاہتا ہے۔ بھارت چاہے نہ چاہے پاکستان تو چاہتا ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو ابھینندن واپس نہ جاتا۔ بھارت کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان بھارت کی دوستی نہ ہو۔ مگر پاکستان بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی نا انصافیوں کے باوجود بھی بھارت سے تعلقات چاہتا ہے۔ لگ تو ایسا رہا ہے کہ پاکستان نے کشمیر پر بھی سودا کر لیا، کہ شاید ایسا کرنے کے بعد بھارت پاکستان کو گلے لگا لے اور ان سے دوستی کرلے۔ مگر بھارت کو پاکستان سے کسی بھی صورت میں دوستی قبول نہیں۔ اگر بھارت نے پاکستان کو گلے لگا لیا تو مودی سرکار کی باری دوبارہ کیسے آئے گی کیوں کہ بھارت میں اب زیادہ لوگ انتہا پسند ہیں اور ان کو انتہا پسند بنانے والی مودی سرکار ہے۔ اگر نفرتیں کم ہوجائیں گی تو پھر مودی جی کا کیا ہوگا۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us