پاکستان اسٹیل پر چار سال سے تالا۔۔

پاکستان اسٹیل پر چار سال سے تالا۔۔

پاکستان کا ایک بہت بڑا ادارہ پاکستان اسٹیل مل گزشتہ چار سال سے بند پڑا ہے ۔ حکومتیں ہمیشہ اسے بوجھ قرار دیتی رہی ہیں ۔ کبھی اس کی نجکاری کی بات کی جاتی ہے تو کبھی اسے چلانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ موجودہ حکومت بھی اسی شش و پنج میں نظر آتی ہے ۔ پہلے حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اسے ٖفروخت کر دیا جائے گا ۔

لیکن اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ اسے  فروخت نہیں کر رہے ہیں ۔ ان کے جانے کے بعد مشیر خزانہ کا بیان سامنے آیا تھا جنھوں نے اسٹیل مل کو ایک بوجھ قرار دیا تھا ۔

چار سال سے بند اسٹیل مل پر ایک بار پھر حکومت کی نظر پڑی ہے اور لگتا یوں ہے کہ حکومت نے اس پر تعیناتی کے لیے پہلے سے بندہ سوچ لیا ہے اور اس کے بعد اشتہار دیا گیا ہے ۔

پاکستان اسٹیل مل کو دوبارہ چلانے کے لیے ایک مرتبہ پھر چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے کے لیے اشتہار شائع کردیا گیا ہے۔ اس مرتبہ عمر کی حد 62برس سے بڑھا کر 64برس رکھی گئی ہے۔ اس عمر کے اضافے سے سمجھا یہ جارہا ہے کہ حکومت نے پہلے سے بندے کا انتخاب کیا ہوا ہے ۔ اشتہار میں بیان کیا گیا ہے کہ منتخب شدہ سی ای او کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہوگا کہ وہ مل کی ملکیت اثاثوں کی دیکھ بھال اور ان کو محفوظ رکھ سکے۔ اس کے علاوہ اس کی یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مجوزہ پروسیس پرائیویٹ سیکٹر سے پارٹنر کی تلاش اور قائل کرے کہ وہ اسٹیل مل میں سرمایہ کاری کرے اور اس کے آپریشن کو بہتر طریقے سے چلانے میں بھی مدد کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us