پاکستان، اسرائیل بھائی بھائی؟

پاکستان اور اسرائیل کی دوستی ہونی چاہئیے ایسا کہنا ہے پاکستانی اینکر کامران خان کا۔  

گذشتہ روز کامران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے کہ پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے۔ ہمُ انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے۔

پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے کئی کوششیں پہلے بھی کی جاچکی ہیں مگر ہر بار اسی خیال سے رک جاتے ہیں کہ فلاں اسلامی ملک برا نہ مان جائے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ استنبول میں ہونے والی وزرا خارجہ کی اس ملاقات کو اسرائیل کے وزیرِ خارجہ سلوان شلوم نے تاریخی قرار دیا تھا۔

دنیا کے دوسرے مسلم ممالک ترکی، اردن، عمان اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات ہیں مگر پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ جب سب ممالک اپنے اپنے مفادات کو دیکھ رہے ہیں اور اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں توپاکستان کیوں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا؟ کچھ ماہ قبل سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے۔ اسکے علاوہ سعودی عرب ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ انٹیلیجنس کا تبادلہ کرنے پر تیار ہوچکا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرنا درست اقدام ہے؟

حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو سول ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ مودی کی کشمیر میں کی جانے والی ظلم وبربریت سے بخوبی واقف ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کے قائم ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو ہر اس قدم کے بارے میں سوچنا چاہیے جس میں اسکا مفاد ہو۔ پچھلے سال اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کی خبریں سامنے آئیں اور اس پر نام نہاد اسلامی جماعتوں نے احتجاج کیا جس کے بعد صدر عارف علوی کا بیان سامنے آیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نہ کوئی تجویز زیر غور آئی ہے نہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف کی حکومت کیا اقدامات کرتی ہے کیا وہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرے گی؟   

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us