پاکستان آج سے 5 سال پہلے!

آج سے 5 سال پہلے کے اور اب کے پاکستان میں بہت سے شعبوں میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ لیکن اگر خاص طور پر بات کی جائے تعلیم کے شعبے کی تو وہ آج سے 5 10 سال پہلے بھی ابتری کا شکار تھا اور اس میں کافی اصلاحات کی ضرورت تھی اور آج بھی ہنگامی بنیادوں میں اس شعبے میں سدھار لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کا وہ نتیجہ نہیں آرہا جس کی ضرورت ہے۔

اگر باقاعدہ روشنی ڈالی جائے تو ان 5 سالوں میں بہت سی مثبت اور بہت سی منفی باتوں نے جنم لیا ہے۔ جو مثبت باتیں ہیں انھیں دیکھا جائے توآج سے 5 سال پہلے جو نوجوان تھا وہ یونیورسٹی کی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتا تھا، اچھی ڈگریوں اور اچھے کورسز کے اخراجات اٹھانا اس کی بساط سے باہر تھا خواہ وہ کتنا ہے قابل کیوں نہ ہو۔ لیکن اب 5 سال کے بعد کی صورتحال کو دیکھا جائے تو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی نے بہت ساری چیزوں کو آسان کیا ہے۔ اب گھر بیٹھے ہی تعلیم کا حصول آسان بھی ہوگیا ہے اور سستا بھی۔ بہت ساری بیرونی یونیورسٹیز اور پاکستان کی ہی کئی نامور اور معروف جامعات بہترین کورسز کے آن لائن کلاسز دے رہی ہیں اور ایسا ہی بیرونی یونیورسٹیز بھی کر رہی ہیں جو کہ اکثر اوقات مفت  یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اور اسی طرح بہت سارے لوگ گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کے داخلے کسی بھی وجہ سے نہ ہو سکے وہ اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ اور اس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اس کے علاوہ اگر اور بات کی جائے تو فلاحے تعلیمی اداروں میں بیت اضافہ ہوا ہے، مدارس کے اندر بہتری آئی ہے ان ۵ سالوں میں، کمپیوٹر کی تعلیم کو فروغ ملا ہے۔

مدارس میں دہشتگردی کو کنٹرول کیا گیا ہے۔

کئی ایسے ادارے بھی ہیں جو یا تو فلاحی طور پر یا حکومت کے ساتھ مل کر بچوں کے لیئے خاص طور پر کام کر رہے ہیں لیکن ۵ سال میں شرح آبادی میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوا ہے تو ایسے منصوبوں کی کامیابی کا گراف ذیادہ نہیں ہے۔

حکومت اگر دیکھا جائے تو نا کامیاب رہی ہے اس حوالی سے خاص کر سندھ حکومت۔ پنجاب حکومت میں بحرحال تعلیم کے شعبے میں کافی بہتری آئی ہے۔

سندھ حکومت کو ابھی تعلیم کے شعبے میں بہتر اصلاحات نافذ کرنی کی ضرورت ہے خاص طور پر شہری علاقے جیسے کی کراچی کی بات کی جائے تواس میں مختلف کمیٹیوں کی کوشش رہتی ہے کہ وہ اس میں تبدیلی لائیں چاہے وہ ماحول میں ہویا بات تزئین و آرائش کی کی جائے کہ غرڈن بہتر بنانا ہے۔عو اس طرح سے شہری اسکولوں کی حالت دیہی علاقوں کی اسکولوں سے خاصہ بہتر نظر آتی ہے لیکن یہ اپنی مدد آپ کے تحت ہے سارہ کام اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔

اب اگر منفی پہلو کی بات کی جائے تو افسوسناک بات یہ ہے کہ پچھلے ۵ سالوں میں یونیورسٹیزمیں جن کورسز کا ذیادہ مطالبہ ہے ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جن کی وجہ سے طلبہ و طالبات پریشان ہیں۔ اسکالرشپز ناپید ہیں۔

ایک اور مسئلہ ہے بڑھتا ہوا وہ ہے نوجوانوں میں ڈپریشن کا مرض۔ خودکشی کا بڑھتا رجحان۔ نتیجہ کم یا ذیادہ ہو جائے تو نوجوان اپنی جان کے دشمن بن جاتے ہیں جو کہ بہت خطرناک ہے اور خطرے کی گھنٹی ہے سماج کی لیئے۔

اس کے علاوہ برائیاں بہت ہیں لیکن مورد الزام صرف ممٹم کو ہی ٹہرایا جاسکتا ہے۔

تحریر: صبیح الحسن رضوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us