5 سالہ بچی کو اب تک انصاف نہ ملا

30 جنوری 2016 کی رات شادی کی تقریب جوکہ اورنگی ٹاؤن نمبر ساڑھے آٹھ میں تھی وہاں کھیلتے کھیلتے اچانک غائب ہوجانے والی اورنگی ٹاون گلشن ضیاء کی 5 سالہ بچی ” پاکیزہ فیض ” جس کی لاش 5 فروری کے روز اسی شادی ہال کے اندر واٹر ٹینک سے برآمد ہوئی جہاں سے وہ غائب ہوئی تھی۔ ناسوروں نے 5 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد پانی کے ٹینک میں پھینک دیا تھا۔

5 سالہ بچی کو آج تک انصاف نہیں ملا۔ پاکیزہ کا والد آج بھی انصاف کی لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ پاکیزہ کے غریب باپ کو کیس واپس لینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ پاکیزہ کا باپ ایک غریب آدمی ہے اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو غریب ہونے کی وجہ سے با آسانی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ اس ملک میں ظالم طاقتور ہیں اور مظلوم بے بس ہیں۔ اس ملک میں نہ قانون ہے اور نہ کوئی انصاف دینے والا۔

اس ملک کے ننھے فرشتوں کو نوچ کر کھا لیا جاتا ہے مگر ان نوچنے والے بھیڑیوں کو سخت سزائیں نہیں دی جاتی۔ اس ملک میں ایسے کئی واقعات ہو رہے ہیں جن میں سے اکثر سامنے نہیں آتے اور اگر سامنے آئیں بھی تو ان کو دبا دیا جاتا ہے کیونکہ قانون سخت نہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us