کھلے نالے یا بلیک ہول ؟

شہر قائد میں ہونے والے آئے دن کے حادثات تو معمول کا حصہ محسوس ہوتے ہیں لیکں انتظامیہ کی غفلت اور بے حسی نے عام آدمی کی بے بسی کا مزاق اڑایا ہے اور وہ بھی بھیانک طریقے سے۔

گو کہ اس طرح کے واقعات نئے نہیں لیکن تعجب اس بات کا ہے کہ اس کے باوجود حکومت کوئی مناسب لائح عمل اختےار نہیں کرتی ان حادثوں سے بچائو کے لیئے۔

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 1میں نالےسے کمسن بچے کی ڈوبی ہوئی لاش ملی جس کی عمر فقط ۴  سال تھی۔ گلیوں، محلوں میں یہ کھلے نالے کراچی کے کموبیش ہر علاقے میں موجود ہیں اور شہریوں کے لیئے وبال جان ثابت ہو رہے ہیں۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پرپولیس اور ریکسیو ادارے کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے اور لاش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا، متوفی کی شناخت ۴سالہ جمال الدین ولد محی الدین کے نام سے کی گئی،متوفی اورنگی گلفام آباد کا رہائشی تھا ،متوفی کے اہل خانہ نےایک روز قبل پولیس کو بچے کے لاپتا ہونے کی تحریری اطلاع دی تھی۔

اہل خانہ کے مطابق بچہ روز مرہ کی طرح کھیلنے نکلا تھا اور پھر گھر نہ لوٹا جس کے بعد انھوں نے بچے کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں رپورٹ درج کرائی۔ گم سے نڈھال اہل خانہ کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا شبہ تک نہ گزرا کہ ان کا بچہ کسی نالے میں گر سکتا ہے گو کہ آئے دن ایسے واقعات سننے میں آتی رہتے ہیں۔

ننھے جمال کے والدین کی ماں باپ سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں کو جہاں کھیلنے بیج رہے ہیں اس جگہ کا ایک دفعہ خود دورہ کرلیں تاکہ وہ کل کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچ سکیں اور یہ بھی کہ حکومت کی باتوں پر یقین نا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us