نواز شریف کی لندن جانے کی تیاری مکمل؟

پلیٹیلیٹس کے اُتار چڑہاوٗ سے جڑا، ملکی سیاست کا سب سے بڑا معامہ!

ان  پلیٹیلیٹس نے نواز شریف کو جہاں ایک طرف بیمار کیا، وہیں دوسری طرف جیل سے ان کی رہائی کا بھی سبب بنے۔ ان پلیٹیلیٹس کی بیماری سے بس اللہ ہی نجات دلائے!

نواز شریف کے قریبی ساتھیوں اور ان کے معالج ڈاکتر عدنان کا کہنا ہے نواز شریف کی بیماری ایسی ہے کہ اس کی ابھی تک تشخیص نہیں ہو سکی ہے، اور جب تک تشخیص نہیں ہوگی، اس کا علاج کرنا خطرناک نوسکتا ہے۔

غرض ان کی رہائش گاہ، جاتی امراء اب ایک منی ہسپتال کا منظر پیش کرتی ہے جہاں وینٹیلیٹر سمیت کارڈیئک یونٹ اور آئی سی یو یونٹ کی سہولت مہیا کردی گئی ہے۔

چند روز قبل ہی جیل سے رہا ہونے والی ان کی صاحبزادی، مریم نواز کو بھی ڈاکٹروں نے نواز شریف کے لیے سخت احتیاتی تدابیر اپنانے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔

اپنے والد کی بگڑتی صحت سے پریشان، مریم نواز نے آج لاہور ہائی کورٹ کے باہر اپنی ساری تشویش اور گمان کا اظہار کردیا۔

ان کی خواہش ہے کہ اُن کے والد کا بیرون ملک اچھا اور بہترین علاج ہو، اور وہ ان کے ہمراہ جائیں۔ لیکن ایسا ممکن ہی نہیں۔

آپ چاہے اسے دھرنے کی فضیلتیں کہیں، یا پھر قدرت کا کھیل، لیکن ملکی سیاست صورتحال کچھ ایسا رخ پکڑ رہی ہے کہ دیکھنے سننے والوے ایسا محسوس کرتے ہیں کہ شاید پس پردہ شریف خاندان کو کوئی ڈیل یا پھر ڈیھل دی جارہی ہے۔ ایسے میں حکومت الگ پریشان اور اپوزیشن طاقتور نظر آنے لگی ہے۔

مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ نواز شریف کے علاج کے لیے ان کو باہر جانے کی ضرورت ہے۔ اور اگر وہ باہر جائیں گے، تو مریم نواز کو بھی ان کے ساتھ ہی جانا ہوگا۔

اب حکومت وقت ان ونوں کو کتنی ڈھیل دیتی ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us