نواز شریف کی ملک چھوڑنے کی تیاریاں تیزی سے جاری

نواز شریف کا جیل سے نکل کر باہر جانے کا راستہ آسان۔

لیکن راستے میں اب بھی ایک کانٹا موجود رہ گیا ہے۔

ایک عدالت سے دوسری عدالت، یہاں ضمانتیں اور وہاں سفارشیں، بلآخر وہ ہوہی گیا جس کا عمران خان کہتے تھے کہ وہ کبھی بھی نہیں ہونے دیں گے۔ نواز شریف باہر جائیں گے اور انہیں باہر جانے سے کوئی روک بھی نہیں سکتا۔ کیا وہ عمران خان اور کیا ہی وہ نیب چیر مین ریٹائرڈجسٹس جاوید اقبال۔ وہ جو کہتے تھے کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ میں ان کو رولاوٗں گا۔

کئی عرصے کی تیاریوں کے بعد ڈیل تو ہو ہی گئی اور اب ڈھیل کی باری بھی آہ ہی گئی ہے۔ نواز شریف کی جیل سے طبی بنیادوں پر رہائی ہو گئی اور اب وہ جلد ہی بیرون ملک بھی جائیں گے۔ اب صرف ایک مسلئہ باقی رہ گیا ہے۔ ان کا پاسپورٹ اور ای سی ایل سے نام نکلوانے کا۔

ان کا نام ای سی ایل سے نکاوانے کے لیے وزارت داخلہ کبھی وزیر اعظم کے دفتر کی چکر لگاتی ہے تو کبھی نیب چیرمین کے۔

جب بال وزیر اعظم کے کورٹ میں بھیجی گئی، تو انہوں نے اپنے کندھوں سے بوج اُتارتے ہوئے کہہ ڈالا کہ اس کا اختیار اور مناسب فیصلہ تو نیب ہی بتا سکتا ہے، جس کے ماتحت عدالت میں کیس جاری ہے۔

جب کل وزارت داخلہ کے افراد نیب دفتر میں پہنچے تو ان کو گھنٹوں کا انتظار کروایا گیا لیکن چیرمین نیب وہاں ان سے مشاورت کرنے اور ای سی ایل سے نام نکلوانے والے پرچوں پر دستخط  نہیں کیے۔

لیکن حالیہ اطلاعات کے مطابق، نیب حکام کی جانب سے بھی ان کو ملک سے باہر بھیجوانے کی تیاریاں تیزی سے شروع کر دی گئی ہیں جن پر مشاورتی عمل جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us