نواب سیاستدانوں کے نواب کتے

یہاں کے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کے کتے بھی نواب ہے۔ چلو غلطیاں انسانوں سے ہو جاتیں ہیں کوئی بھی کسی کو جان بوجھ کے نہیں مارتا۔ مظفرگڑھ میں آدمی کو ایک کتے کو ٹکر مارنا مہنگا پڑ گیا۔ آدمی سے ٹکر تو لگ گئی لیکن وہ کتا ایک سیاستدان کا نکل آیا۔

یہاں کے سیاستدانوں کا بھی الگ انصاف ہے۔ یہاں انسان مر جاتے ہیں ان کو انصاف نہیں دلایا جاتا۔ مگر اپنے کتے کے لئے بھی انصاف ہے۔ مظفر گڑھ میں مشہور سیاستدان غلام مصطفٰی کھر جو ماضی میں صوبائے پنجاب کے وزیر اعلٰی اور گورنر بھی رہ چکے ہیں، ان کے پالتو کتے کو جب ان کا نوکر واک پر لے گیا تو رستے میں ایک آدمی نے ان کے کتے کو غلطی سے موٹرسائیکل مار دی۔

اب ایسی اعلٰی شخصیت کے کتے کو ٹکر ماری ہے وہ بھی ایک عام معمولی سے آدمی نے اس کو سزا کو بھکتنی پڑے گی۔ یہ اچھی بات ہے کہ جانوروں کو مارنے پر سزا ہو مگر صرف سیاستدانوں کے ہی جانور کیوں ؟ باہر جو جانور جن کو تنگ کیا جاتا ہے مارا جاتا ہے کیا ان کو تکلیف نہیں ہوتی؟

بات یہ ہے کہ سائیں تو سائیں پر سائیں کا کتا بھی سائیں۔ اس ملک میں نہ عام انسانوں کے لئے انصاف ہے اور عام جانوروں کے لئے۔ بس پیسے اور طاقت کا راج ہے۔ غلام مصطفٰی کھر صاحب ماضی میں خود بھی غیر قانونی طور پر جانوروں کا شکار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کتے کو زخمی کرنے والے آدمی کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ اب لگتا ہے وہ اپنے کتے کو انصاف دلوا کر رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us