ننکانہ صاحب میں مذہبی انتہا پسندی: کیا اب بھی ممتاز قادری زندہ ہے؟

۴ جنوری ۲۰۲۰، جہاں پاکستانی عوام بھارت میں جاری دوہری شہریت کے قانون کے خلاف سڑکوں اور سوشل میڈیا دونوں پر ہی خاصی ‘ایکٹوو’ نظر آتی ہے، وہیں ہمارے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ کیا ہی عظیم قوم ہے جو اپنے دامن پر گرے کیچڑ کو صاف کرنے، اُسے دھونے کے بجائے دوسروں کے داغ پر افسوس کرنے میں زیادہ مزہ محسوس کرتے ہیں۔

پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں ہر جمعے کو اظہار یکجہتی کشمیر ریلی نکالی جاتی ہے لیکن کل اس ریلی کا مقصد کشمیر میں نہتے مسمانوں کے لیے آواز اُٹھانا نہیں تھا بلکہ یہ نکلے تھے اپنے شہر میں موجود سکھ افراد کو حراساں کرنے، ان کے گردوارے کو نقصان پہنچانے اور ننکانہ صاحب کا نام، جو کہ سکھ پادری کے نام پر رکھی تھی، اُس کو بدل کر غلام مصطفیٰ رکھنے کا اعلان کرنے کے لیے ہوا تھا۔

نعرے لگاتے، ڈراتے دھمکاتے ان افراد کے بارے میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ یہ ایک گھریلو تنازعہ ہے جس کو یہ لوگ مزہبی انتہا پسندی کا رنگ دے رہے ہیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

جبکہ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ تنازعہ پچھلے سال ایک سکھ لڑکی کو مبینہ اغواء اور اس کو مسلمان بنانے کے خلاف سکھ افراد کا بنایا گیا مقدمے میں ان کو حراساں کرنے کے لیے، یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔ ایک معمولی تنازعہ، اس سے قبل بھی کئی بار پورے علاقے میں بد امنی اور عالمی سطع پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ جیسا کہ آسیہ بی بی کا واقعہ!

یہاں، ننکانہ صاحب کے اس واقع سے اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، لیکن ننکانہ صاحب اور پنجاب کے دیگر شہروں میں موجود اقلیتی کمیونٹیز خوف و حراس کا شکار ہوگئی ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ سرحد پار بھارت کو بھی پاکستان پر تھو تھو کرنے کا سنہری موقع مل گیا ہے۔

ملک میں پھیلتی مذہبی انتہا پسندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آج سے ٹھیک ۹ سال قبل، ۴ ءجنوری ۲۰۱۱ کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے اپنے سیکورٹی گارڈ نے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن ۲۹۵c میں ترمیم کی تجویز دی تھی، جو گستاخی رسول اور توہین مذہب کی سزا، سزاء موت بتات ہے۔ نہ صرف یہ،  بلکہ اسی حوالے سے ۲۰۱۱ میں کچھ ماہ بعد وزیر برائے اقلیتی مزہب، شہباز بھٹی کو بھی ایسے ہی بے رحمانہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔

ان دونوں کا قصور بس اتنا ہی تھا، کہ انہوں نے سیکشن ۲۹۵c میں ترمیم اور ملک میں اقلیتی مذہبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کی بات کی تھی جو اس قانون کا جائز ناجائز طور پر شکار ہوتے آئے ہیں۔ لیکن مذہبی انتہا پسندوں نے ملک کی عوام، وزیروں اور سیاستدونوں کو یہ بات پاور کرا دی کہ یہاں کس کا اصل حکم چلتا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی نے جہاں ہزاروں، لاکھوں افراد کو ملک بدر ہونے پر مجبور کردیا ہے، وہیں جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ مسلسل خوف و حراس کا شکار رہتے ہیں۔ جس کے حوالے سے ملکی اور غیر ملکی خبر رساں ادارے کئی بار رپورٹ کرچکے ہیں۔

سلمان تاثیر کو تو ۲۰۱۶ میں سزائے مات ہوگئی لیکن توہین رسالت کے قانون، سیکشن ۲۹۵c میں ترمیم اور اقلیتی قوموں کے تحافظ کو یقینی بنانے میں پاکستان کے سیاستدانوں اور اداروں کو آگے اور بھی کئی سخت،اور فیصلہ کن اقدام لینے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us