نگلیریا وائرس سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار کون؟

کراچی میں نگلیریا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد ۱۵ہوگئی۔ ڈینگی پر کنٹرول تو نہ کیا گیا پر عوام کو نگلیریا وائرس سے بچانے کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ کل کے دن میں جناح ہسپتال کراچی میں کراچی کا ایک ١٩ سالہ نوجوان نگلیریا سے لڑتے لڑتے جاں بحق ہوگیا جس کے بعد رواں سال شہر میں نیگلیریا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 15ہوگئی۔

نگلیریا فاؤلیری جسے دماغ کھانے والا امیبا بھی کہتے ہیں، ایک ایسا  امیبا ہے جو صاف اور تازہ پانی میں پرورش پاتا ہے ۔یہ امیبا جھیلوں ، تالابوں ، چشموں ، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پایا جاتا ہیں جہاں یہ جرثومہ کائی اور مختلف جراثیموں پر گزارہ کرتا ہے۔  ماہرین صحت کے مطابق نیگلیریا فوولری یعنی دماغ کھاجانے والا جرثومہ پانی میں کلورین کی مقررہ مقدار پوری نہ ہونے پر پرورش پاتا ہے۔ 

نگلیریا فاؤلیری، انسانی جسم میں ناک کے راستے دماغ میں داخل ہو تا ہے اور ناک کی جھلی سے گزر کر یہ دماغ کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور یہ دماغی خلیات کو اپنی غذا بناتے ہیں اسی بناء پر انہیں دماغ کھانے والا امیبا کہتے ہیں ۔امیبا کے ناک میں داخل ہونے کے 2 سے 15 دن میں علامات ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں جو مریض اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us