نیب کا اگلا وار کس پر ہونے کو تیار؟

نیب نے اپنی مرضی کی خبریں چلانا شروع کر دیں ہیں۔ اب چند صحافیوں کو یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ دنیا کو بتا دیں کہ ہم پیپلز پارٹی پر مزید ہاتھ رکھنے والے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب پیپلز پارٹی سے کیا کام لینا ہے۔ گزشتہ دنوں خبر یہ آئی کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاڑکانہ او ر سکھر سے تعلق رکھنےوالے پیپلزپارٹی کے دو، دو ارکان قومی اسمبلی، ارکان صوبائی اسمبلی، صوبائی مشیران اور وزراءکے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات تیزکردیں ہیں۔ جس کے تحت سندھ میں گزشتہ 5 سال کے اندر الاٹ کی گئی اراضی کی بورڈ آف ریونیو نے تفصیلات جمع کرنی شروع کردی ہیں۔

اب یہ خبر بنوائی گئی ہے اور اس کے لیے ماحول بنایا جارہا ہے۔ بلکل اسی طرح سے جیسے پہلے خورشید شاہ کے لیے ماحول بنایا گیا اور پھر گرفتارکیا گیا۔

اس خبر کا مزید حصہ یہ ہے کہ

اس سلسلے میں مختیار کاروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ الاٹ کی گئی اراضی کی تفصیلات سے بورڈ کو آگاہ کریں۔ یہ تفصیلات نیب کی جانب سے طلب کی گئی ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کے مطابق ماضی میں بڑے پیمانے پر سرکاری قیمت پر اراضی الاٹ کی گئی جبکہ بیشتر اراضی کی اوپن مارکیٹ میں قیمت سو گنا سے زائد تھی۔

بورڈ آف ریونیو کے مطابق نیب کے علاوہ دیگر تحقیقاتی ادارے صوبے میں غیر قانونی طورپر الاٹ کی گئی اراضی کی تفصیلات معلوم کرنے کے لئے رابطے کررہے ہیں.ان میں خاص طورپر ٹنڈو محمد خان ، سجاول ، ٹنڈو الہ یار ، جام شورو ، ٹھٹہ ،سکھر ،شکار پور ، خیر پورکے اضلاع قابل ذکر ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سجاول اور ٹھٹہ میں سابق رکن سندھ اسمبلی اویس مظفر کے کہنے پر ہزاروں ایکٹر اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی اور اویس مظفر کی بھی سجاول میں ہزاروں ایکٹر اراضی ہے۔

نیب کے موجودہ چیئرمین کے پاس وقت کم رہ گیا ہے ۔ اپوزیشن کا دھرنا قریب آرہا ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کی گرفتاریاں کیا ماحول کو اور گرم کردینگی؟ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ

ٹھٹہ سیمنٹ فیکٹری کے لیے بھی اضافی اراضی الاٹ کی گئی۔ ان کے حکم پر جن افسران نے سجاول میں اراضی الاٹ کی وہ تمام ریونیو افسران اس وقت جیل میں ہیں۔ ان افسران کی جانب سےاراضی کی نشاندہی کے بعد اویس مظفر جو اس وقت دبئی میں مقیم ہیں ان کو گرفتار کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

اویس مظفر عرف ٹپی کے نام سے کون واقف نہیں ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اویس مظفر نے کراچی میں 150 سے زائد چائنا کٹنگ کرائیں اور 50 سے زائد گوٹھ بنائے۔ نواب شاہ میں بائی پاس بنانے کے بعد جس اراضی کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اس کی الاٹمنٹ کی بھی تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔

نجی شعبے کی جانب سے اس اراضی پر تجارتی و رہائشی منصوبوں کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ بورڈ آف ریونیو کے مطابق سکھر،  شکار پور اور گھوٹکی میں اراضی کی تفصیلات جمع کرنے کا مقصد خورشید شاہ کے خلاف مضبوط مقدمات قائم کرناہے۔ قائم علی شاہ جب وزیر اعلی تھے ان کے دور میں بھی بڑے پیمانے پر اراضی الاٹ کی گئی۔ جس کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں خیر پور ضلع سے بھی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔ سید قائم علی شاہ نے اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے خیر پور کی بیشتر اراضی پر سرکاری منصوبوں کا اعلان کرکے قیمتی بنایا جبکہ بیشتر منصوبے شروع ہی نہیں ہوسکے اور جن کو اراضی الاٹ کی وہ کئی گنا زائد قیمت پر اراضی فروخت کرچکے ہیں۔

نیب نے سکھر میں بے نظیر بھٹو پارک ، ریور سیفٹی وال (دریائے سندھ کے سیلابی پانی سے شہر کو محفوظ رکھنے کے لئے بنائی گئی دیوار) کی بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ 

سرکاری دستاویزات کے مطابق نیب نے جن اہلکاروں و افسران کو 15 اکتوبر کو ریکارڈ کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل نیب سکھر کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے ان میں مختیار کار ڈوکری، بکرانی، لاڑکانہ ، رتو ڈیرو، قمبر ، شہداد کوٹ ،واراح، میرو خان، ناصر آباد ، قبو سعیدخان، سجاول ، گڑھی یاسین، خان پور، لاکھی ، شکار پور ،گڑھی خیرو، جیکب آباد، تھل، کندھ کوٹ ، کشمور اور ٹانگوانی شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو کہا گیا ہے کہ نیب کو شکایات ملی ہیں کہ مذکورہ افسران و اہلکار، سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ ، اراضی کے ریونیو ریکارڈ میں جعلسازی، رشوت ستانی، رشوت طلبی، اراضی کے ریکارڈ میں رد و بدل میں رشوت ستانی کے جرائم میں ملوث ہیں۔

یہ اراضی ایم این اے، ایم پی ایز، وزراء کے فرنٹ مین ان کے اپنے ناموں پر سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی گئی ہے۔ جن ملزمان کے خلاف تحقیقات تیز کی گئی ہیں۔ ان میں سید خورشید شاہ ، سید محمد بخش مہر، جس میں ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کو کہا گیا ہے کہ اس سلسلے کی 2030ء ایکڑ اراضی کا تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ 

اس کے علاوہ نیب کے دائرے میں ایم پی اے کے بھائی سردار چانڈیو، اور برہان چانڈیو بھی شامل ہیں۔ صوبائی وزراء میں سہیل انور سیال اور اویس قادر شاہ دو مشیران سردار بنگل خان مہر کے خلاف تحقیقات تیز کردی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us