پر اسرار وائرس کی زد میں سندھ کے بچے

 

بدین کے قریب سمندر والی پٹی میں موجود چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں ایک پر اسرار بیماری پھیل گئی ہے۔ یہ ایک قسم کا گلے کا وائرس ہے۔ یہ وائرس ان دیہاتوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے کئی بچے اب تک فوت ہو چکے ہیں۔ اس وائرس کی وجہ سے مزید تین بچے جان کی بازی ہار بیٹھے ہین، جس کے بعد فوت ہونے والوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

بدین میں بچوں کے ٹیسٹ کے لئے صرف ایک کیمپ لگایا گیا، جس میں 30 بچوں کے ٹیسٹ کئے گئے، جس میں سے 5 بچے گلے کے وائرس کا شکار نکلے۔ جن کو اسلام آباد اور کراچی سے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا گیا۔ وہاں کے سماجی کارکنوں نے بتایا کہ اِن دیہاتوں میں رہنے والے لوگ بہت غریب ہیں جن کے لئے علاج کے لئے بدین ہسپتال پہنچنا بھی مشکل ہے۔ بدین میں موجود صحت کے ادارے یہاں کی عوام کا مذاق بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بدین ڈسٹرکٹ کے ہیلتھ افسر لاکھوں روپے کا بجٹ منظور کرواتے ہیں، اور کاغظی کاروائی کرتے ہیں۔ وہ بجٹ کے پسے سے اپنی جیپ بھرتے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلٰی سندھ سے یہ گزارش کی ہے کہ متاثرہ بچوں کے سرکاری خرچ پر اچھے ہسپتالوں میں ٹیسٹ کروائیں۔ جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ کس قسم کا وائرس ہے۔ ان کو چاہیئے کہ اس پٹی میں موجود تمام دیہاتوں کے بچوں کی ویکسین کروائیں۔ ان معصوم بچوں کے اموات کے سلسلے کو روکیں۔ ان کا یہ مطالبہ ہے کہ نا اہل ڈی ایچ او بدین کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us