مفتی کفایت اللہ کی دھمکیاں: ڈی چوک پہ خون خرابا اور بہت کچھ!

ماڈل ٹاوؑن واقعے کی یادیں ابھی بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ہم اس ازیت ناک واقعے کو نہیں بھولے جس کے آج تک قاتلوں کو بھی نہیں پکڑا جا سکا ہے۔۔۔

پھر بھی نہ جانے کیوں۔ ہمارے سیاستدان، اپنے زاتی فائدے کے لیے اس کو بار بار دھرانے کی دھمکی دیتے ہیں اور وہ بھی کھلے عام؟

ملک و قوم کے لیے جان دینا تو ہمارا مذہب بھی سکھاتا ہے اور ہم اپنے حق کے لیے آواز بلد کرنا، احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق بھی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے کہ اس ملک کے لیڈر، اور خاص طور پر مذہبی لیڈر، عوام کو للہ رسول کا نام اور واسطہ دے کر, اپنے سیاسی فائدے اور انتقام پورا کرتے ہیں۔۔۔؟

ایسا ہی کچھ پہلے طاہر القادری نے کیا تھا، اور اب جمعیت علماؑ اسلام کے بانی مولانا فضل الرحمٰن کے پارٹی رہنما، مفتی کفایت اللہ بھی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کا یہ ماننا اور کہنا ہے کہ ان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ڈی چوک پر لاشیں گرانی ہونگی اور خون خرانا ہوگا۔ صرف ایسا ہی کرنے سے حکومت سے استعفٰی لیا جا سکتا ہے. یہ سب بناوٹ کے جملے نہیں ہیں، بلکہ وہ الفاظ ہیں جو مفتی کفایت اللہ نے ایک نجی ٹی وی شو میں کہے تھے!

مفتی کفایت اللہ کو اس وقت شو میں موجود میزبان اور دیگر مہمانوں نے بھی منع کیا کہ وہ کیسی بات کر رہے ہیں، جبکہ ایسی باتوں سے ملک اور سیاسی پارٹیوں کو ہمیشہ زلت اور نقصان ہوا ہے اور عوام تباہ!

اُمید ہے کہ ایسا کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ڈی چوک ہی نہیں، بلکہ پورے پاکستان کہیں بھی نہ ہو۔ (آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us