چوکیدار یا ایم کیو ایم کا ٹارگٹ کلر

اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ ڈسٹرکٹ ایسٹ اور سولجر بازار پولیس نے ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم نے 2012 سے 2013 کے دورمیان 29 افراد کے قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ ملزم سے کلاشنکوف ، 100 راؤنڈ اور پستول برآمد کرلیے گئے۔

ٹارگٹ کلر سلیم قریشی عرف مجا اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنان، لسانی قتل، گینگ وار کارندوں، پولیس مخبر اور ایک خاتون کے قتل سمیت 29 افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں جان لے چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 2007 میں اس نے ٹارگٹ کلنگ شروع کی تھی جس میں اس نے پہلا قتل ایک بلوچ نوجوان کا کیا تھا۔ اسکے علاوہ سیاسی کارکنان، گینگ وار کارندے، پولیس مخبر اور مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے قتل کرچکا ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر نے بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ ملزم تھانہ سولجر بازار میں قتل کی 3 وارداتوں میں نامزد اور اشتہاری ہے۔ ملزم 6 سال سے لانڈھی میں ایک کرایہ کے گھر میں چھپا ہوا تھا۔ اس نے تبلیغی جماعتوں کا سہارا بھی لے رکھا تھا۔

ملزم نے بتایا کہ میرے ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں ہونے کی وجہ سے لیاری گینگ وار جمیل چھانگا گروپ کے کارندوں نے سولجر بازار میں دودھ کی دکان پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔ جس کے بعد ملزم نے انتقامی کاروائی کے طور پر کئی بے گناہ بلوچ نوجوانوں کو قتل کیا۔ 12 مئی کو ایک نجی نیوز چینل کے دفتر پر بھی فائرنگ کی۔ اسکے علاوہ ملزم اغوا اور اغوا کے بعد قتل کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزم آج تک گرفتار نہیں ہوا تھا۔ سلیم قریشی عرف مجا نامی سفاک قاتل سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں چوکیدار ہے۔ صبح اسپتال کا دروازہ کھولنے کے بعد یہ وہاں سے چلا جاتا تھا اور رات کو واپس آکر رات یہیں گزارتا تھا۔ اسکی گرفتاری کے بعد دیگر اور ملزمان روپوش ہوگئے ہیں۔ جن میں اسد اقبال ، شاکر بندھانی، اشتیاق عرف ماموں، فرحان عرف ہگڑا، عامر عرف کالا، فہد عرف کے ٹو ، ذاکر قریشی ، آصف بابو، خرم الہ بادی، ہمایوں ،سلیم عرف چاند، عمران عرف الی، اور ذاکر عرف چیتا شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us