گولیاں چلیں گی، لاشیں گریں گی: مولانا نے دھرنے کا لائحہ عمل بتا دیا!

ملک کہیں بھی جائے۔۔۔ ہمارا مسلئہ نہیں!

سیکورٹی کی صورتحال کچھ بھی ہو۔۔۔ ہمارا مسلئہ نہیں!

الیکشن ہوں، تین مہینے کے اندر اندر، لیکن کیسے، یہ ہمارا مسلئہ نہیں!

مولانا اس بات پر بضد ہیں کہ "ہم یہاں پر گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور یہاں سے لاشیں اُٹھائیں گے، ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پورے ملک میں افرا تفری ہوگی!”

گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل، ڈان نیوز کے پروگرام میں صحافی مہر بخاری کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے پارئی قائدے اور دھرنے کا لائحہ بیان کیا، اور کچھ یوں بیان کیا جس سے ملک کے آنے والے حالات اور واقعات کسی اچھے رخ کی طرف جاتے نظر نہیں آہ رہے۔

حکومت اور سیکورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل تنبیع اور تڑی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ کچھ ناسلوکی کی گئی تو اس کے ذمہ دار وہ نہیں ہوں گے۔

استعفعٰی دو! استعفٰی دو! استعفٰی دو! کی رٹ لگاتے مولانا کا کہنا تھا ہم ڈرتے ورتے کسی سے نہیں ہیں۔ اگر ڈرتے ہوتے تو کیا یہاں آتے؟؟ یہ جو تمام ڈرانے دھمکانے کی تمام باتیں ہیں، یہ سب حکومت پر خود ہی لاگو ہوتی ہیں۔

انٹرویو میں مولانا فضل الرحمٰن نے جب اتنے سکون سے گولیاں چلنے اور لاشیں گرنے کی بات کی، تو دیکھ سن کر ایسا لگ رہا کہ وہ ایسا ہونے اور بدلے میں کرنے کی باقاعدہ پلاننگ اور تیاری کے ساتھ آئیں ہیں۔ حکومت کے استعفٰے کے لیے وہ اتنے مدہوش ہیں، کہ قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

لیکن اس جوش میں کہیں کہیں یہ بھی محسوس ہوا کہ مولانا کہیں کہیں ہوش بھی کھو بیٹھے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت دھاندلی پر بنی ہے۔ یہ غیر آئینی ہے۔ ایوان میں بیٹھے سارے لوگ بدیانتی سے سامنے آئے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی نہیں مانتے کہ اگر حکومت کو گرانا ہی ہے، صورتحال ایسی کرنی ہے کہ نئے الیکشن لازمی ہوجائیں تو تمام اپوزیشن پارٹیوں کا ایوانوں سے استعفٰی بھی ایسا کرسکتا ہے۔۔۔ لیکن اس پر مولانا کہتے ہیں کہ نہیں! ہم استعفیٰ کیوں دیں؟ ہم تو خود استعفیٰ لینے آئیں ہیں۔۔۔

اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا اگر نئے الیکشن ہوئے، اس میں پھر تحریک انصاف اگر جیتی تو وہ اسے نہیں مانیں گے۔ دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کریں گے۔ دوبارہ اگر الیکشن میں تحریک انصاف جیتی تو دوبارہ الیکسن کا مطالبہ کیا جائے گا۔۔۔ غرض مولانا کا مقصد ہی کچھ اور بتا رہا ہے۔

پر یہ ساری باتیں کچھ نئی نہیں ہیں۔ جب مفتی کفایت اللہ نے ایسی باتیں کیں تھیں، تو سب نے ان پر تنقید کے تیر برسائے تھے۔ پر اب تو مولانا فضل الرحمٰن نے خود ہی سارا گیم پلان واضع کردیا ہے۔

کیا دارالحکومت کو یرغمال بنانا اور پورے ملک میں انتشار کی آگ جلانا جائز ہے؟ اور اگر نہیں، تو مولانا فضل الرحمٰن کے آج کے دھرنے میں اور ۲۰۱۴ کے عمران خان والے دھرنے میں کیا فرق باقی رہے گا؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us