لیاری اسپتال میں بڑے فراڈ کا انکشاف

لیاری اسپتال میں ادویات کی عدم موجودگی پر میڈیکل اسٹورز مالکان نے مریضوں کو لوٹنا شروع کردیا۔

صوبے کے دیگر سرکاری اسپتالوں کی طرح گورنمنٹ لیاری جنرل اسپتال میں بھی ادویات کی عدم دستیابی کے سبب مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جس کے باعث اسپتال کے باہر موجود میڈیکل اسٹوروں کی چاندی ہوگئی ہے۔ اسٹور مالکان نے ادویات کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دیں ہیں۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو دہری اذیت کا سامنا ہے۔ ایک تو اسپتال میں ادویات دستیاب نہیں ہیں جبکہ ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات اسپتال کے باہر موجود میڈیکل اسٹوروں جن میں سے اکثریت بغیر لائسنس کے چلائے جارہے ہیں ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔دیگر علاقوں کی طرح لیاری میں بھی میڈیکل اسٹورز پر فارماسسٹ (کوالیفائیڈ پرسن) سرے سے موجود نہیں ہوتے ہیں۔ ادویات فروخت کرنیوالے ناتجربہ کاری کی وجہ سے اکثر ڈاکٹرز کے نسخے کے برعکس ادویات دے دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ڈرگ ایڈمنسٹریشن سندھ کے ڈرگ ایڈ منسٹریشن سندھ کے ڈرگ انسپکٹرز نے کبھی میڈیکل اسٹوروں کا وزٹ نہیں کیا۔ جس کے باعث ایک درجبن میڈیکل اسٹورز بلاخوف شہریوں کو من مانی قیمت پر ادویات فروخت کررہے ہیں۔   

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us