مریم نواز کی سیلفیاں، جج ناراض

لاہور میں مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی پر کافی لوگوں نے ان کو گھیرے میں لے لیا۔ اس موقع پر وہ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں اور اپنے شوہر صفدر عباس کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخل ہونے لگیں تو وہاں پر موجود کافی لوگوں نے ان کے ساتھ سیلفیاں بنائی۔

مریم نواز کو اپنے شوہر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب، رکن پنجاب اسمبلی عظمٰی بخاری اور دیگر کے لوگوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں۔ مریم نواز کے ذاتی سیکیورٹی اہکاروں نے اندر داخل ہونے کے بعد کنڈی لگادی تا کہ باقی لوگ اندر نہ آئیں۔عدالت میں داخل ہونے کے باوجود مریم نواز کی سیلفیاں نہ رکیں۔ عدالت میں جب جج جواد الحسن داخل ہوئے تو تب بھی سیلفیوں کا سلسلہ جاری تھا، جس پر جج صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے حکم دیا کہ موبائیل فون کا استعمال بند کیا جائے۔

عدالت میں سماعت شروع ہوئی۔ سماعت شروع ہوئی تو جج صاحب نے مریم نواز اور عباس یوسف کو روسٹرم پر طلب کیا تاہم رش کے باعث مریم نواز کو بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس پر مریم نواز مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما امیر مقام اور اپنے شوہر محمد صفدر کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئیں. عدالت نے مریم نواز اور ان کے چچا زاد بھائی باس یوسف کا مزید چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں دوبار 23 اکتوبر کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us